ملتان (منصور عباس) دنیا بھر کے غریب ترین ملکوں میں شامل پاکستان کےعوام کو مزید نچوڑنے اور ان سے مزید مال بٹورنے کی خاطر ہر طرح کی نئی پرانی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے گرد پنجاب حکومت نے گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور قانون سازی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور تباہ حال سڑکوں کے کناروں کی وجہ سے پاکستان میں زیادہ تر حادثات رپورٹ ہوتے ہیں جس کا حکومت تدارک تو کر نہیں سکی مگر آئے روز حادثات میں کمی کے لیے گھریلو و کمرشل گاڑیوں رکشوں اور موٹر سائیکل سمیت فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کیخلاف کارروائی لیے جانے کا سخت ترین فارمولا لاگو کیا جا رہا ہے جو کہ ٹریفک قوانین سے بھی زیادہ سخت ہو گا جس کے اسی طرح جرمانے ہوں گے، 15 اکتوبر سے لاہور میں فٹنس اور ایمیشن ٹیسٹ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا گیا تاہم ملتان سمیت دیگر شہروں میں نفاذ کے حوالے سے تاحال کوئی واضح ہدایات جاری نہیں ہوئیں اور امکان ہے کہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں کمائی کا یہ ذریعہ پورے پنجاب میں لاگو ہو گا۔ سیکرٹری آر ٹی اے ملتان محسن نثار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی یہ معاملہ لاہور کی حد تک ہے، ملتان میں کارروائی شروع کرنے کی کوئی ڈائریکشن موصول نہیں ہوئی۔پروونشل موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء کے سیکشن 39 کے تحت ٹرانسپورٹ گاڑی کے لیے مجاز اتھارٹی کا فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ منسوخ ہونے کی صورت میں متعلقہ رجسٹریشن اور روٹ پرمٹ بھی نئے سرٹیفکیٹ کے حصول تک معطل ہو سکتے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق پبلک سروس گاڑیوں، بھاری و ہلکی کمرشل ٹرانسپورٹ اور رکشوں کے لیے فٹنس لازمی ہے جبکہ کمرشل گاڑیوں کا مقررہ مدت کے بعد دوبارہ معائنہ کرانا ہوتا ہے۔ سیکشن 39-A اور جدول نمبر 15 کے تحت مقررہ عمر پوری کرنے والی نجی گاڑیاں بھی فٹنس نظام میں شامل ہیں۔ ایک ہزار سی سی تک کی کار کو تیاری کے پانچ سال بعد، ایک ہزار ایک سے دو ہزار سی سی تک کی کار کو چھ سال بعد اور دو ہزار سی سی سے زائد انجن والی کار کو سات سال بعد فٹنس درکار ہوگی۔ موجودہ قانونی متن میں موٹر سائیکلوں کے لیے بھی فٹنس کی شرط شامل ہے۔ نئی موٹر سائیکل لینے کے ایک سال بعد فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔ فٹنس معائنے کے دوران گاڑی کی ظاہری حالت کے ساتھ بریک، ٹائر، لائٹس، اسٹیئرنگ، سسپنشن، دھوئیں کا اخراج، لیکج اور دیگر اہم حفاظتی حصوں کو بھی جانچا جائے گا۔ ناقص گاڑی کو ضروری مرمت کے بعد دوبارہ ٹیسٹ دینا ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سڑکوں پر خطرناک اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی اور حادثات کے خطرات میں کمی بتایا جارہا ہے۔2026ء کی قانونی ترامیم میں انتہائی ناکارہ گاڑیوں کے حوالے سے اختتامِ عمر کی گاڑیوں کا فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایسی گاڑی جو فٹنس یا اخراجی ٹیسٹ میں ناکام ہو اور قانونی شرائط کے مطابق دوبارہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے قابل نہ رہے، اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت سکریپ کیا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے پرانی اور مسلسل مکینیکل خرابیوں کا شکار گاڑیوں کے مالکان پر مرمت اور فٹنس کے اخراجات کا اضافی بوجھ بھی پڑسکتا ہے۔دریں اثنا ملتان میں پنجاب وہیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم (پی وی آئی سی ایس) کے تحت فٹنس معائنہ کی سہولت دستیاب ہے اور ڈی ایچ اے مین گیٹ کے قریب بوسن روڈ پر نیا دفتر بھی قائم ہوچکا ہے جبکہ ان کا پرانا آفس جنرل بس اسٹینڈ کا بالمقابل واقع ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ملتان کے لیے باقاعدہ نفاذی ہدایات جاری ہونے کے بعد فٹنس کے بغیر گاڑیوں کیخلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے، اس لیے گاڑی مالکان کو اپنی گاڑی کی کیٹیگری اور فٹنس کی قانونی ضرورت پہلے سے معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







