ہم امن کے خواہاں ہیں، فیصلہ امریکا کو کرنا ہےکہ تنازع ختم کرنا ہے یا نہیں: صدر مسعود پزشکیان-ہم امن کے خواہاں ہیں، فیصلہ امریکا کو کرنا ہےکہ تنازع ختم کرنا ہے یا نہیں: صدر مسعود پزشکیان-رجسٹری رپورٹس میں ہیر پھیر، پٹواری کا مبینہ کھیل بے نقاب، سرکاری خزانے کو نقصان-رجسٹری رپورٹس میں ہیر پھیر، پٹواری کا مبینہ کھیل بے نقاب، سرکاری خزانے کو نقصان-نشتر ہسپتال، کروڑوں مالیت کی انجیو گرافی مشین طویل عرصے سے بند، مریض خوار-نشتر ہسپتال، کروڑوں مالیت کی انجیو گرافی مشین طویل عرصے سے بند، مریض خوار-سڑکیں تباہ، حادثات برقرار، حکومت نے گاڑی مالکان کو نشانے پر رکھ لیا، فٹنس شکنجہ تیار-سڑکیں تباہ، حادثات برقرار، حکومت نے گاڑی مالکان کو نشانے پر رکھ لیا، فٹنس شکنجہ تیار-پروفیسر کے سیاہ کرتوت، "قوم" کی خبر پر محکمہ تعلیم ایک سال بعد جاگ گیا، انکوائری شروع-پروفیسر کے سیاہ کرتوت، "قوم" کی خبر پر محکمہ تعلیم ایک سال بعد جاگ گیا، انکوائری شروع

تازہ ترین

نشتر ہسپتال ناکارہ مشینری کا قبرستان بن گیا، 150 سے زائد طبی آلات بیکار، مریض رل گئے

ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ناکارہ مشینری کا قبرستان بن گیا، 150 سے زائد طبی آلات کی فہرست سامنے آگئی۔نشتر ہسپتال ملتان میں ناکارہ قرار دی جانے والی طبی مشینری کی پانچ صفحات پر مشتمل فہرست سامنے آ گئی، جس میں مختلف وارڈز، آئی سی یو، ڈائلیسز یونٹ، گائنی اور بچوں کے شعبوں میں موجود 150 سے زائد طبی آلات کو ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔ فہرست میں کارڈیک مانیٹر، ای سی جی مشینیں، الٹراساؤنڈ مشینیں، ڈیفبریلیٹر، انکیوبیٹر، سی ٹی جی مشین، فیٹل ہارٹ ڈیٹیکٹر، نیبولائزر، گلوکومیٹر، سرنج پمپس، انفیوژن پمپس اور دیگر طبی آلات شامل ہیں۔دستیاب لسٹ کے مطابق ناکارہ قرار دیے گئے آلات میں بعض مشینیں 1995ء سے 2023ء کے دوران خریدی گئی تھیں۔ فہرست میں وارڈ نمبر 5 سے وارڈ نمبر 20، گائنی وارڈز، بچوں کے وارڈز، پیڈز، ڈائلیسز یونٹ اور آئی سی یو سمیت مختلف شعبوں کے آلات درج ہیں۔فہرست کے مطابق وارڈ نمبر 5 میں نیبولائزر، ویٹ مشین اور سکشن مشین سمیت متعدد آلات ناکارہ قرار دیے گئے ہیں جبکہ وارڈ نمبر 6 میں کارڈیک مانیٹر، ای سی جی مشین، لیرنگوسکوپ بلیڈ اور سکشن مشین شامل ہیں۔وارڈ نمبر 7 کے حوالے سے فہرست میں 26 مئی 2022ء کو خریدے گئے 8 سے زائد گلوکومیٹرز سمیت ایکسرے لومی نیٹر اور ای سی جی مشین کو ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔ وارڈ 7-A میں BIPAP مشین اور ویٹ مشین بھی ناکارہ آلات کی فہرست میں شامل ہیں۔نیو ڈائلیسز یونٹ کی فہرست میں BP Apparatus، Stabilizer اور RO System کو ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔ RO System ڈائلیسز کے عمل میں استعمال ہونے والا اہم نظام ہے۔W8A ICU میں سکشن مشین اور گلوکومیٹر ناکارہ آلات کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ بچوں کے وارڈ میں چار SIPAP مشینیں اور ایک Drager Incubator بھی ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔بچوں کی ایمرجنسی میں چار BP Apparatus بھی فہرست میں شامل ہیں۔ بچوں کے وارڈ نمبر 20 میں Syringe Pump، Incubator، Phototherapy Machine، 6 Nebulizers، Pulse Oximeters، 5 Glucometers، 3 Infusion Pumps اور 2 Resuscitation Trolleys ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق 8 ستمبر 2019ء کو خریدے گئے 8 B. Braun Syringe Pumps بھی ناکارہ آلات کی فہرست میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک Syringe Pump کی قیمت 3 سے 4 لاکھ روپے تک رہی ہے۔ اسی وارڈ میں Cardiac Monitor اور دو Vital Sign Monitors بھی ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔وارڈ 20-A کے PICU میں Laryngoscope بھی ناکارہ آلات کی فہرست میں شامل ہے۔گائنی کے وارڈز میں بھی متعدد اہم طبی آلات ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔ وارڈ نمبر 16 میں Keratometer، دو Nebulizers، دو BP Apparatus، Glucometer، CTG Machine، دو Ultrasound Machines، Fetal Heart Detector اور Cardiac Monitor فہرست میں شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق وارڈ نمبر 17 میں Pulse Oximeter اور Ultrasound Machine جبکہ وارڈ نمبر 18 میں Pulse Oximeter اور Weight Machine ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔وارڈ نمبر 10 میں پانچ Cardiac Monitors، Sucker Machine اور دو Nebulizers ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔ وارڈ نمبر 11 میں Laryngoscope، Glucometer، ECG Machine، تین Nebulizers اور Defibrillator بھی ناکارہ آلات کی فہرست میں شامل ہیں۔وارڈ نمبر 12 میں چار ECG مشینیں ایک ساتھ ناکارہ قرار دی گئی ہیں۔ فہرست میں Cardio Sunny C110، Life Med 2031-P اور دیگر ECG مشینیں شامل ہیں۔ اسی وارڈ میں Weight Machine، دو Philips Nebulizers، دو Sucker Machines، دو Laryngoscopes اور تین Glucometers بھی ناکارہ قرار دیے گئے ہیں۔وارڈ نمبر 14 میں ECG Machine، Philips Nebulizer اور Sucker Machine کو ناکارہ قرار دیا گیا ہے۔ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد آلات کی مناسب مینٹیننس نہ ہونے کے باعث وہ وقت سے پہلے خراب ہوئے جبکہ بعض مشینوں کو جان بوجھ کر ناکارہ ظاہر کر کے نئی مشینری کی خریداری کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ذرائع نے مزید الزام عائد کیا کہ پرانی مشینری کو ناکارہ قرار دینے کے بعد اسے سٹورز میں رکھ دیا جاتا ہے اور بعد ازاں نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض قیمتی آلات کی مرمت اور بحالی پر توجہ دینے کے بجائے انہیں ناکارہ قرار دے کر نئی مشینری کی خریداری کی جاتی ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔فہرست میں شامل مشینری میں بعض ایسے آلات بھی ہیں جو مریضوں کی تشخیص اور علاج کے اہم مراحل میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں Defibrillator، Cardiac Monitor، Incubator، SIPAP Machine، Baby Warmer، CTG Machine، Fetal Heart Detector اور Dialysis کے لیے RO System شامل ہیں۔مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں طبی آلات دستیاب نہ ہونے یا خراب ہونے کی صورت میں انہیں بعض ٹیسٹ اور طبی سہولیات کے لیے نجی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہےجس سے علاج کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔شہری، مریضوں کے لواحقین اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سیکرٹری صحت پنجاب اور کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال میں ناکارہ قرار دی گئی تمام مشینری کا فرانزک اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماہرین کی ٹیم ہر مشین کا الگ الگ معائنہ کرے اور یہ تعین کیا جائے کہ کون سا آلہ واقعی ناقابلِ مرمت ہے اور کون سا مناسب مرمت اور مینٹیننس کے ذریعے دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔سماجی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ناکارہ قرار دی گئی مشینری کی خریداری، استعمال، مینٹیننس، کنڈم قرار دینے اور نیلامی کے تمام مراحل کا ریکارڈ طلب کیا جائے اور اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہریوں کے مطابق خاص طور پر ڈائلیسز کے RO System، Defibrillator، Cardiac Monitor، Incubator، SIPAP، CTG اور Fetal Heart Detector جیسے آلات کے بارے میں فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے تاکہ دستیاب مشینری کو ممکنہ حد تک دوبارہ فعال کیا جا سکے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری مکمل کرکے ناکارہ قرار دی گئی مشینری، اس کی اصل حالت اور سرکاری خزانے کو ہونے والے مالی نقصان سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں