ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال کی انجیوگرافی مشین طویل عرصے سے بند، مریضوں کو مشکلات کا سامنا نشتر ہسپتال ملتان میں کروڑوں روپے مالیت کی انجیوگرافی مشین طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کا معاملہ سامنے آ گیا، ہسپتال ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ قیمتی مشین کی بروقت سروس اور مینٹیننس نہ ہونے کے باعث یہ عرصہ دراز سے بند پڑی ہے، جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مشین کو مرمت کے ذریعے قابل استعمال بنایا جا سکتا تھا۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ نے مشین کے مرمت کے قابل ہونے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ناقابلِ مرمت قرار دیا ہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں نصب انجیوگرافی مشین کچھ عرصہ استعمال ہونے کے بعد خراب ہوئی اور بعد ازاں اسے ناکارہ قرار دے دیا گیا۔ ذرائع نے الزام عائد کیا کہ مشین کی سروس اور مرمت کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کے باعث قیمتی طبی آلات غیر فعال رہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال میں دل کے مریضوں کی بڑی تعداد علاج کے لیے آتی ہے، تاہم انجیوگرافی کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث مریضوں کو چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت دیگر مراکز کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔مریضوں اور لواحقین کے مطابق کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں مریضوں کے رش کے باعث انجیوگرافی کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ جو مریض نجی ہسپتالوں سے یہ سہولت حاصل کرتے ہیں انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔متاثرہ مریضوں اور شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری سطح پر انجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے سے کم آمدنی والے مریض زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فوری انجیوگرافی درکار ہونے والے مریضوں کے لیے متبادل انتظام نہ ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔شہری، سماجی اور مریضوں کی فلاحی تنظیموں نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال میں انجیوگرافی مشین سمیت غیر فعال طبی آلات کی خصوصی انسپکشن کرائی جائے۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ تکنیکی ماہرین سے مشینوں کا معائنہ کرا کے یہ تعین کیا جائے کہ کون سے آلات مرمت کے ذریعے دوبارہ قابل استعمال بن سکتے ہیں۔بعض شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں قیمتی مشینری کے غیر فعال رہنے سے مریضوں کو نجی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ مشین کے خراب ہونے، اس کی مرمت اور اسے ناکارہ قرار دینے کے تمام مراحل کی جانچ کی جائے۔دوسری جانب نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے مشین کے حوالے سے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ انجیوگرافی مشین ہسپتال کو عطیہ میں ملی تھی اور کچھ عرصہ چلنے کے بعد خراب ہو گئی۔ ان کے مطابق موجودہ حالت میں مشین مرمت کے قابل نہیں ہے اور اسے ’’جہاں ہے، جیسی ہے‘‘ کی بنیاد پر نیلامی میں فروخت کیا جائے گا۔ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی امریکہ میں موجود تنظیم کی جانب سے ایک نئی انجیوگرافی مشین عطیہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ایم ایس نشتر ہسپتال کے مطابق نئی انجیوگرافی مشین کی تنصیب کے بعد اسے چلانے کے لیے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹرز کی دستیابی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کارڈیالوجی میں ڈاکٹرز کی کمی موجود ہے اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ انجیوگرافی کی سہولت بحال کرنے کے لیے پلان تیار کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ یہ سہولت جلد از جلد نشتر ہسپتال میں دوبارہ دستیاب ہو۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی انجیوگرافی مشین کی تنصیب کے ساتھ کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں مطلوبہ ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ مشین کی تنصیب کے بعد مریضوں کو عملی طور پر انجیوگرافی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔







