اڈالاڑ(نمائندہ قوم)ملتان کے علاقےبستی شور کوٹ میں دو ماہ کی بچی مبینہ طور پر اینٹوں کے وار سے جاں بحق، نامزد ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے ۔نامزد کم عمر بچوں کے حوالے سے قانونی پہلو سامنے آگئے۔تفصیلات کیمطابق اڈالاڑ کے نواحی علاقے بستی شورکوٹ میں دو ماہ کی بچی کی مبینہ طور پر اینٹوں کے وار سے ہلاکت کے واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کے مطابق تھانہ بستی ملوک میں نامزد ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہے تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔لواحقین کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کی ہلاکت کے معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ اہلِ خانہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور مقدمے کی شفاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں نامزد بچے 9 اور 10 سال کی عمر کے ہیں اور دونوں کو عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔ پولیس کے مطابق کم عمر بچوں کو عام ملزمان کی طرح گرفتار کرکے حوالات میں نہیں رکھا جاسکتابلکہ ان کے معاملے میں قانونِ اطفال کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔قانونی طور پر بھی بچوں کی عمر اور واقعے کے وقت ان کی قانونی حیثیت اس معاملے میں اہم ہے۔ حتمی طور پر ذمہ داری اور واقعے کے تمام حقائق کا تعین تفتیش اور عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔متاثرہ خاندان کا مطالبہ ہے کہ بچی کی ہلاکت کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیںجبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد کم عمر بچوں کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گی۔







