برطانیہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی “تہذیب ختم کرنے” جیسے سخت بیانات کے بعد نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی ممکنہ جوہری تصادم کے خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے عروج کے دوران مغربی سفارتی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی رہی کہ اگر تنازع مکمل جنگ میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر پھیل سکتے ہیں، جن میں توانائی کا بحران، فوجی اتحادوں کی ممکنہ مداخلت اور حتیٰ کہ جوہری تصادم کا خطرہ بھی شامل تھا۔
برطانوی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، اسرائیل کی سیکیورٹی صورتحال اور امریکا کی سخت پالیسیوں نے خطے کو انتہائی حساس بنا دیا تھا۔ بعض یورپی حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ کسی بھی غلط فہمی یا فوجی اشتعال انگیزی سے صورتحال بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک، خصوصاً جاپان، چین اور جنوبی کوریا، آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا تھے۔
تاہم امریکی حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا تھا، نہ کہ کسی مکمل جنگ یا جوہری تصادم کی طرف جانا۔







