آئی ایم ایف کا پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کا مطالبہ، بجٹ 2027 پر اہم مشاورت

آئی ایم ایف کا پاکستان سے آئندہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور حکومتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ
آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مالیاتی استحکام کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں واضح کمی کی جائے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام اور مالی سال 2027 کے بجٹ کی تیاریوں پر تفصیلی مشاورت کی۔
آئی ایم ایف وفد نے مس ایوا پیٹرووا کی قیادت میں 13 سے 20 مئی تک اسلام آباد میں قیام کیا، جہاں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات، بجٹ حکمت عملی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے دونوں جانب سے تعمیری قرار دیا گیا۔
اس موقع پر حکومت پاکستان نے مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور کہا کہ یہ ہدف معیشت کو مستحکم بنانے اور مالی نظم و ضبط کے لیے نہایت اہم ہے۔
آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ پائیدار مالی استحکام کے لیے ٹیکس نیٹ میں اضافہ، ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری، اور وفاقی و صوبائی سطح پر پبلک فنانشل مینجمنٹ کے اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔
دورے کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ سے متعلق مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے تاکہ اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں