ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں گرینڈ گالا کے موقع پر غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر کی جانب سے قوالی نائٹ، ڈنر کی مد میں اچھی خاصی کامیاب کمائی کے بعد خواتین یونیورسٹی ملتان کے مختلف ڈیپارٹمنٹس نے کمائی کے اس کامیاب فارمولے پر فوکس کرتے ہوئے’’دوسری بین الاقوامی کانفرنس برائے مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنسز‘‘کے نام پر قوالی نائٹ اور ڈنر کی مد میں طالبات سے زبردستی رقم وصول کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ طالبات کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ہیڈ آف کمپیوٹر سائنس سمیت دیگر انتظامی افسران بشمول سی ایس مارننگ مس وجیہا، سی ایس ایوننگ مس مہروار، آئی ٹی مارننگ مس سحرش، آئی ٹی ایوننگ مس اعزا شبیر نے کانفرنس میں شرکت کو لازمی قرار دیتے ہوئے طلبہ پر زبردستی رجسٹریشن فیس جمع کرانے کے احکامات جاری کیے۔میڈم سروش کی جانب سے تمام کلاسز کی طالبات کے نمائندوں کو کہا گیا کہ اپنی کلاسز کو مطلع کریں کہ کانفرنس میں شرکت لازمی ہے۔ چونکہ یہ کانفرنس سیشنل مارکس کا حصہ ہے اس لیے اگر آپ اس میں شامل نہ ہوں گے تو آپ کے 15 نمبر کاٹ لیے جائیں گے۔ اسی بابت ایک کلاس کی نمائندہ طالبہ نے وائس نوٹ کے ذریعے کلاس کو کہا کہ یہ میں نے نہیں کہا بلکہ میم نے کہا ہے جو نہیں دے گا اس کے مارکس کٹ جائیں گے کیونکہ میں نے میم کو لسٹ بنا کردینی ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا کہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں سیشنل نمبروں میں 15 نمبر کم کیے جائیں گے۔ طلبہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ رجسٹریشن فیس 1500 روپے ہے جس میں لنچ، ڈنر اور قوالی نائٹ شامل ہے۔ طالبات نے الزام لگایا ہے کہ اس طرح کی فیس کی وصولی یونیورسٹی اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بجائے براہ راست مختلف اساتذہ اور کوآرڈینیٹرز کے ذریعے کی جاتی ہےجبکہ کسی قسم کی رسید یا سیریل نمبر بھی فراہم نہیں کیے جاتے۔ ان کے مطابق گرینڈ گالا کے دوران بھی اسی طرز پر رقوم اکٹھی کی گئیں مگر وہ رقم بھی یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کروائی گئی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جبری وصولیوں سے یونیورسٹی میںتعلیمی مافیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ طلبہ اور والدین نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب خواتین یونیورسٹی ملتان کی پی آر او انعم زہرہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔







