نشتر ،ڈاکٹروں کے سیاستدان مسعود ہراج کی نگرانی میں ایچ آئی وی مریض سمیت 28 آپریشن ،پھر ایڈز کا خطرہ ،تفصیلات جانیے میاں غفار کی رپورٹ میں، نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈین آف سرجری پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کی زیر نگرانی ایچ آئی وی پازیٹو کے ایک 30 سالہ مریض شہباز ولد صفدر حسین کا ٹیسٹ کرائے بغیر آپریشن کر دیا گیا اور اُنہی اوزاروں، اُسی ماحول اور اُسی لباس میں اگلے روز یعنی 20 مئی کو مجموعی طور پر 27 آپریشن بھی کر دیئے گئے مگر 20 مئی بروز بدھ شام کو مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ پازیٹو آنے پر ہسپتال میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ آپریشن 19 مئی کو ہوا اور اس کی حتمی فہرست ڈاکٹر مسعود الرئوف ہراج نے جاری کی۔ باوثوق اور ذمہ دار ذرائع کے مطابق ردا نامی سینئر اور تجربہ کار چارج نرس نے آپریشن سے قبل شہباز نامی مریض کا جب چارٹ چیک کیا تو شور مچا دیا کہ اس میں ایچ آئی وی کی رپورٹ شامل نہیں۔ اس لیے اس مریض کا نام لسٹ سے نکال دیں اور اس بارے میں ہیڈ نرس ممتاز اور ڈیوٹی پر موجود تمام ڈاکٹرز کو بھی آگاہ کیا مگر ہیڈ نرس نے اسے کہا کہ آپ جا کر آپریشن کی تیاری کرو اور شور نہ کرو۔ یہ آپریشن ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کی نگرانی میں دو سینئر سرجنز ڈاکٹر نعیم شاہ اور ڈاکٹر ارسہ نے ابتدائی طور پر کیا اور حتمی آپریشن ڈاکٹرمسعودالرئوف ہراج نے مکمل کیا۔ مریض کی بڑی آنت کا آپریشن تھا جسے دوبارہ پیٹ کے اندر داخل کیا جانا تھا۔ اس مریض کو بے ہوشی کی دوادینے والے ڈاکٹرز میں ڈاکٹر علی جان اور ڈاکٹر اریبہ شامل ہیں جن کے نام چارٹ میں موجود ہیں اور انہوں نے بھی مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ چارٹ میں شامل نہ ہونے کا کوئی نوٹس نہ لیا حالانکہ اگر مریض کو کھانسی بھی ہو تو اسے بے ہوشی کی دوا نہیں دی جاتی۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں اس نوعیت کی مجرمانہ غفلت کا ڈیڑھ سال کے عرصے میںیہ دوسرا سنگین نوعیت کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ذرائع کےمطابق آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں شہباز ولد صفدر حسین نامی 30 سالہ مریض کا آپریشن ایچ آئی وی ایڈز سکریننگ رپورٹ کے بغیر ہی کر دیا گیا جس کے بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے میں شدید خوف اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ 19 مئی بروز منگل وارڈ نمبر 5 کے یونٹ انچارج پروفیسر ڈاکٹر مسعودالرئوف ہراج نے ایک مریض کا آپریشن کیا۔ آپریشن سے قبل ردا نامی چارج نرس نے مریض کی فائل چیک کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس میں HIV ایڈز ٹیسٹ رپورٹ موجود نہیںتاہم مبینہ طور پر اس اعتراض کو نظر انداز کر دیا گیا اور آپریشن جاری رکھا گیا۔ اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 20 مئی بروز بدھ کو بھی اُسی آپریشن تھیٹر میں معمول کے مطابق وارڈ نمبر چھ اور وارڈ نمبر چار کے مجموعی طور پر 27 آپریشن کیے گئے جن میں سے 17 مریضوں کا تعلق وارڈ نمبر چھ کے ساتھ تھا اور 10 مریضوں کا تعلق وارڈ نمبر چار کے ساتھ تھا۔ انتہائی متعلقہ ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپریشن تھیٹر کے آلات، ماحول اور استعمال شدہ حفاظتی نظام کے حوالے سے عملے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی جب بدھ کی شام مریض کی ایچ آئی وی رپورٹ آپریشن کے 28 گھنٹے بعد موصول ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد آپریشن تھیٹر کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کو اپنے HIV ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کیے جانے کی اطلاعات ہیںجبکہ ہسپتال کے اندر معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔شہباز نامی مذکورہ مریض اب بھی وارڈ نمبر پانچ سے ملحقہ ایک کمرے میں چھپا کر زیر علاج رکھا گیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق سارا ملبہ چارج نرس پر ڈال کر ڈاکٹروں اور انچارج نرس کو بچایا جا رہا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم نے سینئر سرجنز سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کسی بھی سرجیکل پریکٹس سے قبل مریض کی سکریننگ رپورٹس اور انفیکشن کنٹرول کے یونیورسل پروٹوکولز پر سختی سے عمل لازنی ہوتا ہے تاکہ طبی عملے اور دیگر مریضوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ اس سے قبل بھی نشتر ہسپتال کے ڈائلیسز یونٹ میں انفیکشن کنٹرول سے متعلق سنگین غفلت پیڈا کے تحت ہونے والی انکوائری میں ثابت ہو چکی ہے جب ڈائیلسز کے دو درجن سے زائد مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس کی منتقلی کے سنگین نوعیت کے واقعات سامنے آئے تھےجس کے بعد ادارے کے حفاظتی نظام اور انتظامی نگرانی پر متعدد سوالات اٹھائے گئے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ نشتر کے ڈائلیسز سنٹر سکینڈل میں پروفیسر مسعود ہراج ہی ایچ آئی وی مریضوں کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ و جعلی رپورٹس مرتب کرنے میں بھی ملوث تھے جسکا ذکر وزیراعلیٰ پنجاب نے ملتان میں ایک اعلیٰ سطح میٹنگ میں بھی کیا تھا مگر ڈاکٹروں کی سیاست کے روح رواں ہونے کی وجہ سے وہ صاف بچ نکلتے ہیں اور اس واقعے میں بھی انہیں بچانے کی کوشش شروع کر دی گئی ہیں۔
نشترواقعہ، ایم ایس کا انکوائری کا حکم، مریضوں کوایچ آئی وی ٹیسٹ کروانے کی ہدایت
ملتان (وقائع نگار) ایچ آئی وی ایڈز کے مریض کا آپریشن کرنےکےمعاملہ پرمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال ڈاکٹر راؤ امجد علی نے فوری طور پر انکوائری کا حکم دے دیا ۔ انہوں نے ڈاکٹر عظمیٰ اعظم کی سربراہی میں چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ۔ ایم ایس نے خانہ پری کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی ہے تاکہ واقعے کی مکمل تفتیش کی جا سکے اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔کمیٹی کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے، آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے پروٹوکولز، سٹریلائزیشن کے معیار اور عملے کی ذمہ داریوں کی جانچ کرے۔ متاثرہ افراد کی سکریننگ اور فوری ٹیسٹنگ کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ مزید پھیلاؤ روکا جا سکے۔اس حوالے سے نشتر ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تاہم متاثرہ خاندانوں اور صحت کے ماہرین نے ہسپتال انتظامیہ پر پہلے سے احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔محکمہ صحت پنجاب نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں بلکہ احتیاط برتیں اور اگر وہ ہسپتال میں علاج کرا چکے ہیں تو فوری طور پر ایچ آئی وی ٹیسٹ کروائیں۔
نشتر ہسپتال میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ، تمام آپریشن تھیٹرز بند، ملازمین میں خوف و ہراس
ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں ایڈز کے مریض کے آپریشن ہو جانے کے انکشاف کے بعد پورے ہسپتال میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام آپریشن تھیٹرز فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ گزشتہ 12 گھنٹوں سے صفائی اور سٹیرلائزیشن کا عمل جاری ہے اور ہسپتال کے تمام ملازمین میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی کے علم میں نہیں کہ بدھ کے روز مذکورہ آپریشن تھیٹر میں ایڈزکے مرض میں مبتلا شہباز نامی مریض کی فائل میں ایچ آئی وی ایڈز کی رپورٹ نہ ہونے کے باوجود سنگین کوتاہی میں آپریشن کیے جانے کے واقعے کے بعد اگلے روز جو 27 آپریشن کیے گئے ہیں ان میں بھی ایڈز کے جراثیم منتقل ہونے کا خطرہ جہاں لاحق ہے وہاں تمام تر عملہ جس جس سے بھی ملا اور جہاں جہاں بھی گیا وہاں ایڈز کا وائرس پہنچنے کا امکان پیدا ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں کے سیاست دان ڈاکٹر مسعود الرئوف ہراج اور ان کے عملے کی غفلت نے ایک بڑے سانحے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ یہاں یہ امر خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی مضبوط سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے اس سے قبل بھی اس قسم کے واقعے سے مکھن میں بال کی طرح خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئی تھی اور اب بھی سارا ملبہ ان کی کمزور گرفت پر پڑ رہا ہے کیونکہ جب انہوں نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تو یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ پریکٹس نہیں کریں گی اور نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے انتظامی امور میں مکمل دلچسپی لیں گی مگر صورتحال یہ ہے کہ وہ صرف ساڑھے تین سے چار گھنٹے کے لیے دفتر آتی ہیں اور ان کا دفتر آنے اور جانے کا دورانیہ دس سوا دس بجے سے لے کر مشکل ڈیڑھ سے دو بجے تک ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ پورے طمطراق سے اپنی پرائیویٹ پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس طرح حکومت پنجاب کہ قوانین کو روندنے کے حوالے سے مس کنڈکٹ کی بھی مرتکب ہو رہی ہیں۔ نشتر میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا مریضوں کو پہلے بھی ڈائلیسز وارڈ میں ایچ آئی وی وائرس کے مریضوں کے لیے مختص ڈائیلسز یونٹ کے علاوہ دیگر مشینوں کے ذریعے خون صاف کرنے اور بعد میں انہی مشینوں پر دیگر مریضوں کے خون کی صفائی کرنے کی سنگین غفلت کے بعد متعدد مریضوں میں ایڈز کے وائرس منتقل ہونے کے واقعات سامنے آئے تھے اور انکوائری میں بعض ڈاکٹرز کو معمولی سزائیں بھی ہوئیں مگر ڈاکٹر مہناز خاکوانی اور بعض سینئر ڈاکٹر بچا لئے گئے۔







