ملتان، پہاولپور، خانیوال سیکشنز میں درختوں کا قتل عام، ملزمان کو ہائیکورٹ سے ریلیف

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن میں دھائیوں پرانے قیمتی درختوں کی کٹائی اور راتوں رات فروخت جاری، فائلوں کا پیٹ بھرنے کیلئے مقدمات درج مگر ملوث ملزمان بدستور ڈیوٹیوں پر براجمان ہیں۔ مقدمہ نمبر 2/26 بجرم:409/34 کے تحت مقدمہ تو درج مگر سرکاری ملازمین پر انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعات نہ لگانے پر سہولت کاری کا خدشہ، عبوری ضمانتوں کے بعد ملازمین پھر’’فرائض‘‘ انجام دینے لگے۔تفصیلات کے مطابق ملتان ریلوے ڈویژن میں سرکاری اور قیمتی درختوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی اور خرد برد کا سلسلہ تاحال نہ رک سکا۔ ذرائع کے مطابق عرصہ دراز سے مختلف ریلوے سیکشنز میں قیمتی درختوں کی کٹائی اور چوری کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، تاہم متعدد شکایات اور میڈیا نشاندہی کے باوجود متعلقہ ملازمین بدستور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ایک مقدمے کے ریکارڈ میں درج تحریری درخواست کے مطابق محمد جاوید، اے ایس آئی انچارج چوکی ریلوے پولیس لیہ نے یکم جنوری 2026 کو ایس ایچ او ریلوے پولیس بھکر کو رپورٹ دی کہ وہ دیگر اہلکاروں اور نمائندہ اسپیشل برانچ کے ہمراہ اطلاع ملنے پر ریلوے اسٹیشن احسان پور کے علاقے میں پہنچے۔ موقع کی جانچ کے دوران مختلف مقامات سے ریلوے کے ملکیتی سرسبز درختوں کے کٹے ہوئے تنے اور نشانات ملے۔رپورٹ کے مطابق شیشم، بیری اور شریں درخت کے کٹے جانے کے شواہد سامنے آئے۔ درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ متعلقہ ریلوے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری درخت کاٹ کر خرد برد کیے گئے۔ بعد ازاں ایس ایچ او ریلوے پولیس بھکر نے مقدمہ نمبر 2/26 بجرم 409/34 درج کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود متعلقہ ملازمین کے خلاف گرفتاری یا مزید قانونی کارروائی کے نہ ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ نے ملزمان کی ضمانت خارج کی جبکہ بعد ازاں سینٹرل جج ایف آئی اے ملتان نے بھی ضمانت مسترد کر دی۔ تاہم بعد میں ملزمان نے ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کر لی اور اب بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ادھر ملتان ڈویژن کے مختلف علاقوںجن میں بہاولپور اور خانیوال کے سیکشنز بھی شامل ہیں میں ماضی میں بھی درختوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ مقامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری املاک کو نقصان کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 409/34 امانت میں خیانت اور مشترکہ نیت سے جرم سے متعلق دفعات ہیں۔ تاہم دفعہ 5(2) انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 صرف اس بنیاد پر نہیں لگائی گی کہ ملزم سرکاری ملازم ہے، بلکہ اس کے لیے سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی یا غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کے شواہد بھی موجود تھے ۔ اس لیے اس کیس میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا تفتیشی مواد کی بنیاد پر ایسی دفعات شامل ہونا قانونی طور پر مناسب تھا یا نہیں۔جب کہ ریلوے پولیس بھکر نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کو عبوری ضمانتوں کا موقع فراہم کیا اور معمولی دفعات لگائی گئی جبکہ اس بابت نجف شاہ اسٹیشن ماسٹر احسان پور سے موقف لیا گیا جس نے بتایا کہ میں نے درخت کٹوانے سے پہلے آئی او ڈبلیو رانا مبشر کو اگاہ کیا تھا اور ان کے کہنے پر ہی درخت کٹوائے تھے جو کہ میرے سٹور میں موجود ہیں اس بابت جب رانا مبشر انسپکٹر آف ورکس سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں عبوری ضمانت پر ہوں اور افسران بالا کے علم میں تمام حالات اور واقعات ہیں جبکہ اس بابت درخواست گزار محمد جاوید اے ایس ائی سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا جو کہ مداعی مقدمہ ہیں مگر رابطہ نہ ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں