بی زیڈ یو جنرل باڈی کا تاریخی فیصلہ، ایگریکلچر اور انجینئرنگ فیکٹیز ضم کرنیکی تجویز مسترد

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بروز بدھ 20 مئی 2026 منعقد ہونے والے جنرل باڈی اجلاس میں اساتذہ اور متعلقہ حلقوں نے بی زیڈ یو کی مختلف فیکلٹیز کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان اور محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں ضم کرنے کی مجوزہ حکومتی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ کے وجود، شناخت اور تعلیمی ڈھانچے کے خلاف اقدام قرار دے دیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں متعدد ایجنڈا آئٹمز زیر بحث آئے تاہم سب سے زیادہ توجہ مبینہ’’مرجر پلان‘‘نے حاصل کی جس پر شرکاء کی غالب اکثریت نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ بی زیڈ یو کی فیکلٹیز کو دوسری جامعات میں منتقل یا ضم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرکاء نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک ہی شہر میں ایگریکلچر، ویٹرنری یا انجینئرنگ سے متعلق اداروں کی موجودگی مسئلہ تھی تو متعلقہ جامعات کے قیام سے قبل اس پہلو پر غور کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اب ایک نصف صدی پر محیط تاریخ، مضبوط تعلیمی شناخت اور کامیاب تدریسی و تحقیقی نظام رکھنے والی جامعہ کو کمزور کرنا کسی طور دانشمندانہ پالیسی نہیں ہو سکتی۔ اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تقریباً 50 سالہ قدامت رکھنے والی بہاالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی نمایاں اور بڑی جامعہ ہے جو رینکنگ، تدریس، تحقیق اور پروگرامز کے حوالے سے مضبوط مقام رکھتی ہے۔ شرکا کے مطابق ایسی یونیورسٹی جہاں داخلوں کا بحران نہیں، پروگرامز کامیابی سے جاری ہیں اور فیکلٹیز مؤثر کارکردگی دکھا رہی ہیں، اس کے وسائل اور شعبہ جات کو تقسیم کرنا ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر بی زیڈ یو کی ایگریکلچر، فوڈ سائنس، ویٹرنری اور انجینئرنگ فیکلٹیز کے مستقبل پر تشویش ظاہر کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر زیر غور تجویز کے مطابق ایگریکلچر، فوڈ سائنس اور ویٹرنری شعبہ جات کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر جبکہ انجینئرنگ فیکلٹی کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کرنے کی بات کی جا رہی ہےجسے اجلاس میں’’غلط اور ناقابلِ عمل تصور‘‘ قرار دیا گیا۔ اجلاس میں بعض شرکاء نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ابتدائی برسوں میں بی زیڈ یو نے اس ادارے کے لیے تدریسی اور انتظامی معاونت فراہم کی، داخلے کیے اور کلاسز تک چلائیں، مگر ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود متعلقہ ادارہ ابھی تک بعض بنیادی پروگرامز میں بی زیڈ یو کی سطح تک داخلوں اور انفراسٹرکچر کے معیار تک نہیں پہنچ سکا۔ اجلاس میں بعض شرکاء نے دعویٰ کیا کہ بی زیڈ یو کی ایگریکلچر فیکلٹی عالمی اور قومی سطح پر بہتر تعلیمی شناخت رکھتی ہے اور جنوبی پنجاب میں نمایاں پوزیشن کی حامل سمجھی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف نئی جامعات کو ابھی انفراسٹرکچر، ریسرچ سہولیات، ہاسٹل اور تجربہ کار اکیڈمک افرادی قوت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط، مستحکم اور بہتر کارکردگی دکھانے والے ادارے کو کمزور کرکے دوسرے اداروں کو سہارا دینے کی پالیسی دیرپا حل نہیں بن سکتی۔ جنرل باڈی اجلاس میں ایک متبادل تجویز بھی سامنے آئی جس کے مطابق اگر نئی جامعات انتظامی، تعلیمی یا ترقیاتی مسائل کا شکار ہیں تو انہیں بی زیڈ یو کے سب کیمپسز کا درجہ دے کر ان کا انتظام بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ شرکاء کے مطابق دنیا بھر میں مضبوط ادارے کمزور اداروں کو اپنے انتظامی نیٹ ورک میں لا کر مستحکم کرتے ہیں، نہ کہ مستحکم اداروں کو تقسیم کرکے ان کی بنیادیں کمزور کی جاتی ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے واضح کیا کہ وہ بی زیڈ یو کی فیکلٹیز کے کسی بھی مجوزہ مرجر کی مخالفت جاری رکھیں گے اور اس معاملے پر متعلقہ فورمز پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں