صادق ویمن یونیورسٹی میں رہائشوں پر قبضے، طاقتوروں کو چابیاں واپس، کمزور کیلئے پیرافورس

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپورمیں سرکاری رہائش گاہوں کی تقسیم اور قبضوں کے گرد گھومتا ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں یونیورسٹی ملازمین اور اساتذہ کی جانب سے انتظامیہ پر ’’دوہرا معیار‘‘،’’سیاسی دباؤ‘‘ اور ’’غیر قانونی رعایتوں‘‘کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کالونی میں مبینہ طور پر ایسے افراد کو بھی سرکاری رہائشیں دیئے رکھنے کا انکشاف ہوا ہے جو یا تو یونیورسٹی سے منسلک ہی نہیں رہے یا برسوں قبل ادارہ چھوڑ چکے ہیں مگر اس کے باوجود نہ صرف انہیں رہائشیں خالی کرنے کے نوٹس جاری نہیں کیے گئے بلکہ مبینہ طور پر اسلام آباد اور لاہور کے طاقتور حلقوں کے دباؤ پر ان سے واپس لی گئی چابیاں بھی دوبارہ حوالے کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق اے فائیو رہائش گاہ میں گزشتہ تقریباً دس برس سے رہائش پذیر کالج ٹیچر فریدہ باجوا کے حوالے سے جب اسلام آباد کے’’اعلیٰ ترین حلقوں‘‘سے فون کال موصول ہوئی کہ ان سے کسی صورت رہائش خالی نہ کروائی جائے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر پسپائی اختیار کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم نے مبینہ دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے فریدہ باجوا کو گھر کی چابی واپس کر دی۔ اسی طرح بی ون کیٹیگری میں رہائش پذیر ڈاکٹر انعم کے معاملے میں بھی لاہور کے ایوانوں سے مبینہ سخت پیغام موصول ہوا کہ’’مکان خالی کروانے کی کوشش نہ کی جائے‘‘ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے جس کے بعد انتظامیہ نے وہاں بھی خاموشی اختیار کرتے ہوئے رہائش برقرار رکھی اور چابی واپس کر دی۔ یونیورسٹی حلقوں میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ظاہر کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر انعم جو تقریباً ساڑھے تین سال قبل گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور چھوڑ کر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ملازمت اختیار کر چکی تھیںآج تک سرکاری رہائش اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ حیران کن طور پر ان کے خلاف نہ تو کوئی باضابطہ کارروائی کی گئی اور نہ ہی رہائش خالی کرنے کا کوئی سنجیدہ نوٹس جاری کیا گیا۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے درجنوں حاضر سروس اساتذہ اور ملازمین برسوں سے انہی رہائشوں کے انتظار میں لائنوں میں کھڑے ہیں اور انہیں سرکاری پالیسی کے باوجود رہائش فراہم نہیں کی جا رہی۔ ملازمین کے حلقوں میں اس وقت غم و غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک سابق ملازم جس کی سروس میں توسیع نہ ہونے پر ملازمت ختم کر دی گئی تھی کے ساتھ مبینہ طور پر انتہائی سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے قواعد کے تحت ایسے ملازمین کو رہائش خالی کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جاتا ہے، مگر مذکورہ ملازم کو نوٹس جاری ہونے کے بعد ابھی ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید پندرہ دن انتظار کیے بغیر پولیس، پیرا فورس اور اسسٹنٹ کمشنر کو بلا کر زبردستی مکان خالی کروانے کی کوشش شروع کر دی۔ تنقید کرنے والے حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایک طرف طاقتور سفارشوں پر غیر متعلقہ یا سابق ملازمین کو سرکاری رہائشیں سالہا سال تک دیے رکھی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف کمزور ملازمین کے خلاف فوری طاقت کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟ یونیورسٹی کے اندر اس تمام صورتحال کومفادات کے ٹکراؤ،انتظامی کمزوری اورسیاسی دباؤ کے سامنے مکمل بے بسی کی بدترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سرکاری اداروں میں میرٹ، شفافیت اور قانون کے یکساں نفاذ کے دعووں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کا موقف ہے کہ انعم اور فریدہ باجوہ کو فیکلٹی رہائشیں خالی کروانے کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں مگر آڈٹ کے مطابق تقریباً دونوں پر 32 لاکھ کی ریکوری بھی موجود ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں