نشتر سے چوری 2 کروڑ کی ادویات اینٹی کرپشن سٹور میں ایکسپائر، خطوط بے سود، ہسپتال انتظامیہ لا تعلق

ملتان (مقصود لودھی+ سہیل چوہدری سے) ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان و ساہیوال ریجن بشارت نبی نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اینٹی کرپشن کے افسران پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور حال ہی میں نشتر 2 سے کروڑوں روپے کی کرپشن ہمارے افسران نے بے نقاب کی ہیں حتیٰ کہ نشتر کی سرکاری ادویات جن پرNOT FOR SALE اور گورنمنٹ پراپرٹی درج ہے شہر کے مختلف میڈیکل سٹوروں سے برآمد کی گئی ہیں اور یہ ادویات نشتر کا عملہ چوری کر کے صرف پندرہ سے بیس فیصد قیمت پر دکانوں کو فروخت کرتا تھا حتیٰ کہ 1800 روپے والی سرکاری انسولین کی ہزاروں وائلز بوری میں بھر کر چوری کی گئیں پھر کچھ دن تک اپنے گھروں میں سٹاک کر کے تھوڑی تھوڑی مقدار میں 1800 روپے فی وائل والی انسولین 200 روپے فی وائل کے حساب سے فروخت کی گئیں اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ وائلز فریج سے باہر رہنے کی وجہ سے اپنا اثر ختم کر چکی تھیں اور جس جس مریض نے بھی اس غیر موثر انسولین کو 1800 روپے فی وائل کے حساب سے خرید کیا ان کو فائدے کےبجائے الٹا نقصان ہو چکا ہے جس کا ازالہ نا ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان و ساہیوال ریجن بشارت نبی نے روزنامہ قوم کے چیف ایڈیٹر میاں غفار احمد سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ نشتر انتظامیہ کو بار بار خط لکھے گئے ہیں کہ ہمارے دفتر کے سٹور میں پڑا ہوا کروڑوں روپے کا یہ سامان جو کہ مال مقدمہ کے طور پر ضبط کیا گیا تھا واپس اٹھوا لیا جائے تاکہ کسی کے کام آ سکے مگر یہ تمام ادویات یہاں سٹور میں پڑی پڑی ایکسپائر ہو چکی ہیں مگر نشتر انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہ لیا ۔ بشارت نبی نے بتایا کہ وہ ہر فائل کا ابتدائی معائنہ کرنے کے لیے درخواست دہندہ کو خود اپنے کمرے میں بلا کر ابتدائی معلومات کے بعد کارروائی آگے چلاتے ہیں اور ان کے کمرے میں کوئی پرچی سسٹم نہیں ہے۔ انہیں کوئی بھی آ کر مل سکتا ہے۔ اور جب بھی کوئی درخواست کسی تعمیراتی محکمے کے خلاف موصول ہوتی ہے تو ٹیکنیکل ٹیم کے ممبران موقع ملاحظہ کر کے سیمپل لیتے ہیں اور تجزیے کے لیے بھجوا دیتے ہیں۔ پھر رپورٹ آنے پر کارروائی شروع کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پرچی کلچر اور سفارش کا بہت حد تک خاتمہ کر دیا ہے اور چونکہ میں نےاقوام متحدہ کے لیے بھی کام کیا ہے تو اس حوالے سے میں تقابلی جائزہ لیتا رہتا ہوں کہ ہم اپنے تفتیشی اور تحقیقاتی نظام میں کیسے بہتری لا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی کے خلاف ناجائز ایف آئی آر درج نہ ہو۔ مگر ہم نے گریڈ 18،گریڈ 19 کے افسران کی گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم میں شفافیت ہو تو معاملات خود بخود درست ہوتے جاتے ہیں ۔گزشتہ ایک سال کے دوران میں نے ٹاؤٹ سسٹم کو بہت حد تک کنٹرول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر رہ کر مکمل طور پر میرٹ اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کی سیاسی ملاقاتیں نہیں کرتے تاکہ محکمہ اینٹی کرپشن کی غیر جانبداری پر کوئی سوال نہ اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام انکوائریوں میں “بورڈز” کا نظام فعال ہے اور فیصلے مکمل طور پر دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر فائل کو بغور پڑھتا ہوں تاکہ کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔ اصل مقصد ضرورت مند اور حقدار کو انصاف دلانا ہے۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے زور دے کر کہا کہ محکمہ میںجعلی ایف آئی آرز، سفارش اور پریشر کلچر کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسے تمام غیر قانونی اقدامات کے سخت مخالف ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ملاقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بشارت نبی کو اقوام متحدہ (UN) کے مشن سوڈان میں کام کرنے اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ماحول میں رہ کر بین الاقوامی سطح کا تجربہ حاصل ہوا جو ان کے فیصلوں میں دور اندیشی اور پیشہ ورانہ میرٹ کو مضبوط بناتا ہے۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے بتایا کہ محکمہ میں ہر تکنیکی رپورٹ کے لیے ٹیم موقع پر جاتی ہے، نمونے لیے جاتے ہیں اور UET جیسی مستند لیبارٹریز سے ٹیسٹ رپورٹس حاصل کی جاتی ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں محکمے نے مختلف کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے مالیت کا نقصان روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور عوامی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا۔ ملاقات کے اختتام پر بشارت نبی نے کہا کہ اگر کوئی افسر ایماندار ہے مگر اس کی ایمانداری سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچتا تو ایسی ایمانداری ادھوری ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے جس سے معاشرے کے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے اور بے گناہ محفوظ رہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں