ملتان (رپورٹ : اعجازمرتضیٰ )ایک ماں کی چیخیں، بچوں کی سسکیاں اور ایک خاندان کا کرب چھ سال گزرنے کے باوجود انصاف کی تکمیل کا منتظر۔ سزائے موت کا فیصلہ آ گیا، اپیلیں بھی مسترد ہو گئیںمگر تختہ دار آج بھی مجرمان کی راہ تک رہا ہے۔موٹروے زیادتی کیس کو چھ سال گزر گئے، بچوں کے سامنے ماں سے اجتماعی زیادتی کے مجرمان تاحال تختہ دار پر نہ لٹکائے جا سکے، لاہور ہائیکورٹ سے سزائے موت برقرار رہنے کے باوجود عمل درآمد کا انتظار، انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر عوامی تشویش، فوری سزائیں نہ ہونے سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بڑھ گئے، دستیاب ریکارڈ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے مارچ 2021ء میں دونوں مجرمان کو سزائے موت سنائے جانے اور لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جون 2026ء میں اپیلیں مسترد کرنے اور جولائی میں تفصیلی فیصلے کے ذریعے سزائے موت کی توثیق کے باوجود پھانسی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث انصاف کی فراہمی کے عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بننے والے اس مقدمے میں عدالتی فیصلے کے پانچ سال سے زائد عرصے بعد بھی مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تصدیق نہیں ہو سکی، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، 9 ستمبر 2020ء کو پیش آنے والے اس دل دہلا دینے والے واقعے میں پاکستانی نژاد فرانسیسی خاتون اپنے تین بچوں کے ہمراہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھیں کہ گاڑی کا پٹرول ختم ہونے کے باعث انہیں رکنا پڑا، اسی دوران دو مسلح افراد نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور بچوں کو باہر نکالا اور قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور نقدی، زیورات، اے ٹی ایم کارڈز سمیت دیگر قیمتی اشیا لوٹ کر فرار ہو گئے، واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ خواتین اور بچوں کے تحفظ، موٹروے پولیس کے انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، پولیس نے تحقیقات کے دوران فرانزک، ڈی این اے اور دیگر سائنسی شواہد کی مدد سے ملزمان عابد علی عرف عابد ملہی اور شفقت علی عرف شفقت بگا کو گرفتار کیا، انسداد دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021ء کو دونوں ملزمان کو اجتماعی زیادتی کے جرم میں سزائے موت، اغوا برائے تاوان میں عمر قید، ڈکیتی کے جرم میں 14، 14 سال قید بامشقت، گاڑی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پانچ، پانچ سال قید اور متاثرہ خاتون کو معاوضے کی ادائیگی سمیت دیگر سزائیں سنائیں جبکہ ان کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا، دونوں مجرمان نے 25 مارچ 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں جن میں استغاثہ کے شواہد اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے بریت کی استدعا کی گئی، طویل عدالتی کارروائی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 3 جون 2026ء کو دونوں مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جبکہ 21 جولائی 2026ء کو جاری تفصیلی فیصلے میں بھی عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے طبی، فرانزک، ڈی این اے اور دیگر شواہد کی مدد سے جرم شک و شبہ سے بالاتر ثابت کیا ہے، عدالت نے سزائے موت کی لازمی توثیق بھی کر دی تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے اغوا برائے تاوان کے جرم میں عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل مسترد کر دی، عدالتی فیصلے کے باوجود دونوں مجرمان کو پھانسی نہ دیے جانے کی وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی مستند سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی، قانونی ماہرین کے مطابق سزائے موت کی توثیق کے بعد بھی قانون کے تحت دستیاب مزید قانونی چارہ جوئی اور صدر مملکت کے سامنے رحم کی اپیل جیسے مراحل موجود ہوتے ہیں، آئین پاکستان کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو سزا معاف، معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، عوامی حلقوں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں انصاف کی فراہمی کا عمل غیر ضروری طور پر طویل نہیں ہونا چاہیے اور مقدمات کے تمام قانونی مراحل شفاف انداز میں مکمل کیے جانے چاہئیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملنے کے ساتھ معاشرے میں قانون کی بالادستی پر اعتماد بھی برقرار رہے۔







