ملتان میں ڈینگی مچھر راج، محکمہ صحت کا انوکھا علاج، پازیٹو رپورٹ پر لیبارٹری سیل کی وارننگ

ملتان (وقائع نگار)انتظامیہ اور محکمہ صحت نے ڈینگی پر کنٹرول پانے میں مکمل طور پر ناکامی کے بعد اب نیا فارمولا طے کیا ہے اور تمام لیبارٹریز اور ڈاکٹرز کو سختی سے پابند کیا جا رہا ہے کہ ڈینگی کے مریضوں کی رپورٹ کسی بھی طور پر پازیٹو نہ آئے اور رپورٹ کو کوشش کریں کہ نیگٹو قرار دے کر ڈینگی کی جو بھی ادویات ہیں ان پر مشتمل نسخہ لے کر عام بخار قرار دیں اور مریض کو روانہ کر دیں۔ یہ پریکٹس گزشتہ کئی دنوں سے ملتان میں شروع ہو چکے ہیں اور انتظامیہ نے اپنی مکمل ناکامی کا ملبہ ڈاکٹروں پر ڈالنا شروع کر دیا۔ ملتان شہر ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ ہر گھر، ہر محلہ، ہر سرکاری دفتر میں ڈینگی کے مریضوں کی چیخیں گونج رہی ہیںلیکن ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان نے ڈینگی کنٹرول کا ایک ا’’انوکھا‘‘اور انقلابی طریقہ اختیار کر لیا ہے ۔شہر بھر کی تمام پرائیوٹ لیبارٹریز کو حکم دے دیا گیا ہے کہ ڈینگی کی پازیٹو رپورٹ جاری نہ کی جائے۔ذرائع کے مطابق سی ای او ہیلتھ ملتان کی جانب سے لیبارٹری مالکان کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ’’ڈینگی پازیٹو رپورٹس لکھنا بند کرو، مریض کو بس موسمی بخار لکھ کر گھر بھیج دو ‘‘نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کاغذوں میں ملتان میں ڈینگی کے کیسز انتہائی کم ہیںجبکہ حقیقت میں نشتر ہسپتال، سول ہسپتال اور پرائیوٹ ہسپتالوں کے وارڈز مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ایک ہی دن میں نشتر ہسپتال میں 39 سے زائد کنفرم ڈینگی مریض داخل، درجنوں کی حالت تشویشناک، نشتر ٹو میںنو انٹری لگ گئی لیکن محکمہ صحت کی رپورٹ میں صرف چند ایک کیسز دکھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں 3-3، 4-4 افراد ڈینگی میں مبتلا ہیں، پلیٹ لیٹس گر رہی ہیں، ہسپتالوں میں بیڈز نہیں مل رہےمگر سرکاری اعداد و شمار میں سب اچھاہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ صحت کے افسران پنجاب حکومت کو مسلسل اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور کو جو رپورٹس بھیجی جا رہی ہیں ان میں ڈینگی کو موسمی بخار اورکنٹرولڈدکھایا جا رہا ہے جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملتان کا کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں ڈینگی نہ پہنچا ہو۔ گارڈن ٹاؤن، گلگشت، بوسن روڈ، شاہ رکن عالم، ماڈل ٹاؤن، کینٹ ہر جگہ مچھر اور مریض ہی مریض ہیں۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ڈینگی پازیٹو رپورٹ ہی نہیں بنے گی تو کیسز کیسے رپورٹ ہوں گے؟ یہ طریقہ ڈینگی کنٹرول کرنے کا نہیں، بلکہ ڈینگی چھپانے کا ہے۔ ایک لیبارٹری مالک نے بتایا کہ ہمیں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر پازیٹو رپورٹ لکھی تو لیبارٹری سیلکر دی جائے گی ۔دوسری طرف نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز نے خفیہ طور پر بتایا کہ رواں سیزن میں ڈینگی سے کئی اموات ہو چکی ہیں، مگر انہیںملٹی آرگن فیلئیریا کارڈیک اریسٹ لکھ کر رپورٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ڈینگی کی موت نہ دکھائی جائے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ ملتان کو ڈینگی سے بچایا جائے نہ کہ اعداد و شمار سے کھیل کر عوام کی جانوں سے کھیلا جائے۔کیا پنجاب حکومت اب بھی سب اچھارپورٹس پر یقین کرتی رہے گی یا ملتان کے عوام کی چیخیں سنی جائیں گی؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں