ملتان (کرائم سیل)بلواڑیکا منشیات نیٹ ورک، سکوٹی سوار2 خواتین کی پیر کالونی میں منشیات سپلائی کاانکشاف، چوک شاہ عباس کے قریب بدنام زمانہ شخص بلو اڑیکا کے ڈیرے سے دو خواتین الیکٹرک سکوٹی پر آئس اور چرس سپلائی کرنے آتی ہیں، منشیات کے اڈے پولیس اہلکاروں کی ’’کمائی کابڑ ا ذ ر یعہ ‘ ‘ ، نئے سی پی او ملتان اخترفاروق کیلئے ڈرگ مافیاچیلنج، وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کے جرائم سے پاک پنجاب کے وژن کے تحت خفیہ تحقیقات اور فوری کارروائی کا مطالبہ زورپکڑگیا۔ذرائع کے مطابق تھانہ شاہ شمس کے علاقے پیر کالونی میں منشیات فروشی کے نیٹ ورک سے متعلق مزید خوفناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چوک شاہ عباس کے قریب بلو اڑیکا نامی شخص کے ڈیرے سے دو خواتین مبینہ طور پر سکوٹی کے ذریعے آئس اور چرس لے کر پیر کالونی پہنچاتی اور مختلف مقامات پر قائم منشیات فروشی کے پوائنٹس تک سپلائی کرتی ہیں۔ یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے ۔چونگی موڑ، بلوچ چوک اور پیر کالونی نمبر تین سمیت مختلف مقامات پر منشیات کی خریدوفروخت اور ترسیل کے حوالے سے اطلاعات ہیں۔منشیات کایہ نیٹ ورک باقاعدہ منظم اندازمیں کام کررہاہے۔مبینہ منتھلیاں چل رہی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے مبینہ اڈوں کے خلاف محض روایتی کارروائی کافی نہیں، بلکہ سپلائی کے ذرائع، ترسیل میں استعمال ہونے والی سواریوں، سہولت کاروں اور فروخت کے مقامات کی خفیہ نگرانی کرکے شواہد اکٹھے کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر کسی دیانتدارو غیرجانبدار افسر سے خفیہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ منشیات فروشی میں ملوث عناصر اور سہولت کار اہلکاران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوسکے۔اس حوالے سے ترجمان ملتان پولیس نے موقف میں کہاکہ منشیات ایک ناسورہے۔روزنامہ قوم کی نشاندہی پرمنشیات فروشوں کیخلاف ایکشن ہوگا۔بلاامتیازکارروائیاں کی جائیں گی۔جرائم کی نشاندہی پر کارروا ئی کویقینی بنایاجائے گا۔







