ملتان (عوامی رپورٹر) ضلع ملتان کی رجسٹری برانچ میں مبینہ طور پر ٹھیکیداری نظام ایک بار پھر منظم ہونے لگا ہے، مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے بعض اندرونی ذرائع نے ایک تحصیلدار کی تعیناتی کے حوالے سے سنگین دعوے کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ تحصیلدار کے پوسٹنگ آرڈرز لاہور سے مبینہ طور پر 75 لاکھ روپے کے عوض حاصل کیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مقصد کیلئے ایک پراپرٹی ڈیلر و وثیقہ نویس، ڈی ڈی آفس کے ایک کلرک اور دو مختلف گروپوں نے مبینہ طور پر رقم اکٹھی کرکے تقرری کے انتظامات کیے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ تعیناتی کے بعد رجسٹری برانچ میں بعض وثیقہ نویس گروپوں کی سرگرمیاں دوبارہ تیز ہونے لگی ہیں۔ ایک گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر مارکیٹ سے پرانی ڈاک اور رجسٹریوں کو اکٹھا کرنے کا سلسلہ شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تحصیلدار کی تعیناتی کے پہلے ہی روز ایسی رجسٹریوں کو جمع کرنے کی کوششیں کی گئیں جن میں مبینہ طور پر بوگس اندراجات یا ٹیکسوں کی عدم ادائیگی کے معاملات موجود ہوسکتے ہیں۔اندرونی ذرائع کے مطابق وثیقہ نویسوں کے ایک گروپ نے رجسٹریوں کی کم مالیت ظاہر کرکے اندراج کرانے کی کوششیں بھی شروع کردی ہیں۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے سرکاری محصولات، جائیدادوں کی درست قیمت کے تعین اور رجسٹری کے قانونی طریقہ کار سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان معاملات میں اصل حقائق سامنے لانے کیلئے متعلقہ ریکارڈ کی جانچ اور ذمہ دار اہلکاروں کے کردار کا تعین ضروری ہے۔رجسٹری برانچ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تقرری کے عوض رقم کی ادائیگی سے متعلق دعوؤں پر متعلقہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ مال اور اعلیٰ حکام کی توجہ اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحصیلدار کی تعیناتی کے احکامات، رجسٹریوں کے ریکارڈ، ٹیکسوں کی ادائیگی اور جائیدادوں کی ظاہر کردہ مالیت کی شفاف جانچ کی جائے تاکہ اگر کسی سطح پر غیرقانونی سرگرمی یا سرکاری محصولات کو نقصان پہنچانے کا عمل سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔







