ملتان: ثانیہ زہرا قتل، ملزم خاوند کو سزائے موت، دیور اور ساس کو عمر قید

ملتان (نیوز رپورٹر) – عدالت نے ملتان کی رہائشی دو بچوں کی ماں ثانیہ زہرا کے قتل کیس میں اس کےشوہرعلی رضا کو سزائے موت ،دیوراورساس کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ثانیہ زہرا کو 9 جولائی 2024 کو اپنے گھر میں پنکھےسے لٹکی ہوئی حالت میں پایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر شوہر اور سسرالیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ خودکشی ہےتاہم مقتولہ کے والد نے اس کے قتل کا الزام لگایا اور کہا کہ ساس، شوہر اور دیگر اہل خانہ نے جسمانی تشدد اور پراپرٹی کے تنازعے کی وجہ سے اسے قتل کیا۔ثانیہ زہرا کی لاش دوبارہ قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے جمع کیے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ گلادبانا قرار دی گئی۔تاہم پاکستان فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی رپورٹ میں کچھ شواہد سامنے لائے گئے جنہوں نے خودکشی کے دعوے کو چیلنج کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پھندا جو اس کی گردن پر تھا، قتل کا اصل ذریعہ نہیں تھا اور زخم کے نشان دوپٹے یا رسّی سے نہیں بلکہ پہلے سے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ثانیہ زہرہ قتل کیس کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کی موت خودکشی سے نہیں ہوئی بلکہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔لاہور میں حنا پرویز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس کیس کو ٹیسٹ کیس سمجھا گیا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پھندا لگنے سے گردن لمبی ہو جاتی ہے، اس پھندے سے ثانیہ زہرہ کیس کے اندر کوئی خودکشی کے شواہد موجود نہیں ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پھندے کو ساس اور شوہر نے مل کر ان کے گلے میں ڈالا تاکہ اس کو خودکشی کا رنگ دیا جاسکے، سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی بنائی ہوئی فرانزک لیب کی رپورٹ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ثانیہ زہرہ کے گلے میں جو دوپٹہ باندھا گیا تھا وہ اس کے قتل کی وجہ نہیں ہے، یہ قتل اس سے پہلے ہو چکا تھا اس کو بعد اسے خودکشی کا رنگ دیا گیا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کی گردن اور کندھے پر جو زخم کے نشان ہیں وہ دوپٹے کے نہیں ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں