ملتان (کورٹ رپورٹر ) ڈسٹرکٹ بار ملتان میں گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سائلین کے لئے بائیو میٹرک ویری فکیشن لازمی قرار دینے اور اس مد میں 200 روپے فیس وصولی اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں عدالتی ورکنگ ڈے کم کرنےکے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرہ کی قیادت سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان سید ریاض الحسن گیلانی نے کی، وکلاء نے عدالتی پالیسی کوشہریوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بائیو میٹرک ویری فکیشن کی شرط فوری طور پر واپس لی جائے،احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سید ریاض الحسن گیلانی نے کہا کہ اگر وکلاء کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ ہر تحصیل اور ہر ضلع تک پھیلا دیا جائے گا،انہوں نے اعلان کیا کہ وکلاء کی آخری قدم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت کی طرف لانگ مارچ اور گھیراؤ ہوگا،احتجاج کے دوران شدید گرمی کے باعث خاتون وکیل شمیم اختر ایڈووکیٹ کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگئیں، جس پر فوری طور پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس بلائی گئی ، جس میں انہیں نشتر ہسپتال ایمرجنسی منتقل کر دیا گیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی نے بتایا کہ ہسپتال روانگی سے قبل شمیم اختر نے احتجاج جاری رکھنے کا پیغام دیا ۔مظاہرے میں نشید عارف گوندل، سید اقبال مہدی زیدی، سید ذاکر حسین نقوی، ملک محبوب سندیلہ، سرفراز حسین، سید حسین علی بخاری، انصر دھرالہ، جہانزیب، عرفان سندھو، سید منظور حسین مہر، حسیب قادر، سجاد حسین ٹانگرا، اللہ دتا، کاشف محسن، سلیم راؤ ،افتخار گل، ندا عارف، رانا اسرار، سلیم خان لودھی، رانا عرفان مطلوب، اعتزاز لطیف، حسن خان، غلام نبی طاہر ، طاہر سلیم ہنجرہ، ثوبیہ چوہان، صوبیہ اسلم، رانا طیبہ فاروق کمبوہ سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔







