ملتان (میاں غفار سے) پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے معاشی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف دانشوروں اور بعض ریٹائرڈ بیورو کریٹس سے کئی ماہ کی مشاورت کے بعد آخر کار پاکستان کے مجموعی طور پر 20 نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان مسلم لیگ ن سمیت بہت سی جماعتوں نے اس پر ہر طرح کے تعاون کی حامی بھر لی ہے البتہ پاکستان پیپلز پارٹی ابھی تک’’میں نہ مانوں‘‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی صورت میں کراچی کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی کیونکہ کراچی کی بندرگاہ ہی پیپلز پارٹی کی سیاسی اور معاشی پناہ گاہ ہے۔چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے فارمولے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس پر عمل درآمد کے لیے دو آپشنز رکھے گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف پہلے سے ہی چھوٹے صوبوں کے حق میں ہے اور اس کا بارہا کپتان اظہار بھی کر چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کے اس فیصلے کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کر لیا ہے۔ آج 8 اگست کو وزیراعظم پاکستان واپس آ رہے ہیں اور وہ آتے ہی صدر آصف علی زرداری سے اس حوالے سے ملاقات کریں گے، اگر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی اس پر مان گئی تو امکان ہے کہ یہ سسٹم جاری رہے اور چھوٹے صوبے بنا دیئے جائیں مگر دوسری صورت میں پیپلز پارٹی کو آؤٹ کرکے پی ٹی آئی کو اور دیگر چھوٹی جماعتوں کو شامل کرکے دو تہائی اکثریت با آسانی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس طرح اسمبلی میں چھوٹے صوبوں کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے کی منظوری ہو جائے گی۔ دوسری صورت میں اگر اسمبلی سے یہ بل پاس نہیں ہوتا تو پھر آئینی عدالت میں ایک اپیل دائر کی جائے گی جس پر آئینی عدالت کی منظوری کے بعد ستمبر کے تیسرے یا چوتھے ہفتے میں ملک میں چھوٹے صوبوں کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں ریفرنڈم کے آپشن پر عمل درآمد کروا لیا جائے گا اور اس صورت میں موجودہ حکومتی سسٹم کو روانگی اختیار کرنا پڑے گی۔پاکستان کی انتظامی تقسیم کا جو فیصلہ حتمی طور پر منظور ہوا ہے اور جس پر اگلے دو ماہ میں ہر صورت میں عمل درآمد کا تمام کام مکمل ہو جائے گا وہ کچھ اس طرح سے ہے۔صوبہ پنجاب کو پانچ مختلف صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور ان کے نام بھی فائنل کر لیے گئے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ناممکن ہو گی۔ ان میں لاہور کے ارد گرد کے اضلاع سنٹرل پنجاب، ملتان اور اس کے ارد گرد کے اضلاع جنوبی پنجاب، فیصل آباد اور اس کے ارد گرد کے اضلاع شمالی پنجاب، راولپنڈی، جہلم ،اٹک اور چکوال کے اضلاع پوٹھوہار اور بہاولپور صوبہ الگ سے اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھ لے گا تاہم اس میں ملتان اور ساہیوال ڈویژن کے دو اضلاع کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ صوبہ سندھ:یہ صوبہ مستقبل میں کراچی، حیدرآباد، میرپور، سکھر، لاڑکانہ اور ان کے ملحقہ اضلاع پر مشتمل پانچ صوبوں پر میں تقسیم کر دیا جائے گا جبکہ کراچی ،حب اور گوادر علیحدہ صوبہ ہو گا البتہ بدین اور ٹھٹھہ اس میں شامل نہ ہوں گے۔کراچی و گوادر وفاق کے زیر انتظام انتظامی یونٹ ہو گا جس کا براہ راست کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔صوبہ بلوچستان:بلوچستان کے چار نئے انتظامی یونٹ اور صوبے ہوں گے جن میں کوئٹہ ڈویژن، مکران ڈویژن، ژوب ڈویژن اور قلات ڈویژن شامل ہیں۔ خیبر پختون خوا: اس صوبے کے چار انتظامی یونٹ یا چھوٹے صوبے ہوں گے جن میں پشاور، ہزارہ، مالاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہوں گے جبکہ آزاد کشمیر ،گلگت اور بلتستان کو بھی الگ سے انتظامی صوبے بنانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ اس نئے سیٹ اپ میں وفاق کی دو اکائیاں اسلام آباد اور کراچی، گوادر ہوں گی۔ چیف سیکرٹری کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اور یہ سینئر سیکرٹری میں تبدیل ہو گا جبکہ ڈویلپمنٹ سے متعلقہ تمام ڈیپارٹمنٹس کو اسی طرح اکٹھا کر دیا جائے گا جیسے ایوب دور میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ یعنی پی ڈبلیو ڈی ہوتا تھا جس کے کئی حصے بخرے کر دیئے گئے اور یہی وجہ ہے کہ ایک محکمہ سڑک بنا کر جاتا ہے تو دوسرا محکمہ دو مہینے کے اندر اندر ہی وہاں زیر زمین سیوریج ڈالنے کے لیے کھدائی کرنے آ جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے قیام پاکستان سے قبل کے انتظامی ماڈل کو دوبارہ سے انتہائی تفصیل کے ساتھ سٹڈی کیا ہے کہ کس طرح 10 سے بھی کم وفاقی سیکرٹری پورے ہندوستان کا انتظامی کنٹرول سنبھالتے تھے اور محکموں میں اضافے سے انتظامی اخراجات میں کئی گنا اضافہ تو ہوا ہے مگر مثبت اثرات سامنے نہیں آئے مگر اس کا تمام تر بوجھ عوام پر پڑا ہے جسے نئے سیٹ اپ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ مختلف محکموں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے عوام کے لیے ون ونڈو سکیم کی سہولت کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے اس نئے سیٹ اپ میں بیوروکریٹک پروٹوکول پر بھی بہت بڑا کٹ لگنے جا رہا ہے۔







