ملتان 395 واٹر پلانٹس میں صرف 20 فعال، شہری صاف پانی سے محروم، ڈیڑھ ارب ضائع

ملتان (سید قلب حسن) ڈیڑھ ارب روپے کے صاف پانی منصوبے کا معمہ، پلانٹس بند، خزانہ خالی، ذمہ دار کون؟ یاد رہے کہ میاں شہباز شریف جب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے 300 سو ارب روپے کا صاف پانی سکینڈل سامنے آیا تھا۔ ریکارڈ بھی پیش ہوا تحقیقات بھی ہوئی تھی مگر نہ جانے بعد میں کس سطح پر معاملات طے پا گئے تھے اور تحقیقات رک گئی تھی۔300ارب روپے کےمنصوبہ سے پنجاب بھر میں صاف پانی سپلائی ہونا تھا۔جنوبی پنجاب کے عوام کو صاف پانی فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے آج سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے کے باوجود ملتان میں بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیںجبکہ شہری صاف پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب روپے کہاں خرچ ہوئے اور اس کا حساب کون دے گا؟ اربوں کا منصوبہ مگر نتائج صفر ہیں۔ذرائع اور شہری حلقوں کے مطابق جنوبی پنجاب میں واٹر فلٹریشن منصوبوں کے لیے تقریباً ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے گئے جن کے تحت ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں متعدد پلانٹس نصب کیے گئے۔ مگر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملتان میں آج395 میں سے تقریباً بمشکل 20 پلانٹس فعال ہیں جبکہ باقی تقریباً تمام منصوبے غیر فعال ہو چکے ہیں۔ عملہ باقاعدہ تنخواہیں وصول اور کاغذی کارروائی کر کے موج میں ہے۔ شہری صاف پانی سے محروم ہیں۔ شہری حلقوں کا الزام ہے کہ منصوبے سے وابستہ دو اہم افسران گزشتہ تقریباً چھ برس سے ایک ہی عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس غیر معمولی طویل تعیناتی اور منصوبے کے تمام انتظامی و مالی معاملات کا بھی آزادانہ جائزہ لیا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہےنئے واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کرنے کے بجائے مختلف سرکاری اداروںجن میں محکمہ تعلیم، ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن اور ٹی ایم اے کے پرانے اور ناکارہ پلانٹس پرانے ہیں ۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام کایہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مقامات پر نئی تعمیر کے بجائے پرانی عمارتوں کا ملبہ ہی دوبارہ استعمال کیا گیا۔اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حق یعنی صاف پانی پر بھی ایک سنگین سوال ہے۔ پلانٹس چل کیوں نہ سکے۔مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت نصب کی گئی مشینری مبینہ طور پر غیر معیاری یا استعمال شدہ ہونے کے باعث بیشتر پلانٹس مستقل طور پر فعال نہ ہو سکے۔ اگر اس دعوے میں صداقت ہے تو پھر یہ معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ قومی خزانے کے استعمال پر ایک سنجیدہ سوال ہےجس کی غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔تحقیقات میں ان نکات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کیا واقعی نئے پلانٹس کی جگہ پرانے پلانٹس دوبارہ نصب کیے گئے؟ کن کمپنیوں کو کتنے ٹھیکے دیے گئے اور کن قواعد کے تحت؟کیا خریدی گئی مشینری نئی تھی یا استعمال شدہ؟کتنے پلانٹس آج بھی فعال ہیں اور کتنے بند ہیں؟منصوبے کی تھرڈ پارٹی انسپکشن اور فرانزک آڈٹ کیوں نہ کرایا جائے؟ اگر منصوبہ کامیاب تھا تو عوام آج بھی صاف پانی سے محروم کیوں ہیں ۔شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر ملتان اور متعلقہ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے منصوبے کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے، تمام ٹھیکوں، ادائیگیوں اور خریداری کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے اور اگر کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

صاف ستھرے اور ٹھنڈے ٹھار دفاتر میں بیٹھے صاف پانی پراجیکٹ کے افسران کی ’’بے مثال کارکردگی‘‘ کا واضح ثبوت، ملتان کے مختلف علاقوں میں جا بجا عوامی ٹیکسوں اور قرضوں کے پیسوں کے’’درست‘‘ استعمال پر ماتم کناں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں