ملتان( روزنامہ قوم ریسرچ سیل) لودھراں کے بعد بہاولپور میں بھی کروڑوں روپے ماہانہ آن لائن جوا کروانے والوں کے ایک بہت منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس کی سرپرستی پولیس کے ایک اہم آفس میں تعینات ایک اہلکار کر رہا ہے جس کا اپنا بیٹا اسی گروہ کا فعال ممبر ہے۔ یہ آن لائن جوئے کا نیٹ ورک افضال گیلانی اور دانیال کاظمی نامی دو فراڈیے چلا رہے ہیں جو تھوڑا عرصہ قبل دو وقت کی روٹی کے بھی محتاج تھے اور آج کروڑوں میں کھیل رہے ہیں اور بہت سے افسران کی روٹی روزی کا انتظام کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اس جوا گینگ کے دیگر افراد میں اجلال گیلانی، گوہر گیلانی، طیب رضا نامی ایک شخص شامل ہے جو کہ ان کا اکاؤنٹ ڈیلر ہے۔ بظاہر دکھاوے کے لیے انہوں نے آن لائن پرندے اور مختلف سامان فروخت کرنے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے جبکہ ان کا اصل کام آن لائن جوا کروانا ہے جو بیٹ پرو کے ذریعے کروایا جاتا ہے اور انہوں نے 40 کے قریب لڑکے اور لڑکیاں کمیشن پر بھرتی کر رکھے ہیں جو لوگوں کو گھیر کر لاتےہیں اور ان سے جوا کروا کر اپنی کمیشن وصول کرتےہیں۔ یہ گینگ گزشتہ دو سال میں کئی گھر برباد کر چکا ہے حتیٰ کہ انہوں نے بعض طلبہ کو بھی جوئے پر لگا دیا ہے اور ایک طالب علم یونیورسٹی کی اپنی فیس جوئے میں ہار کر تعلیم چھوڑ کر واپس گھر جا چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بہاولپور میں تعینات سکیورٹی برانچ کا ایک محرر جاوید بھی ان کا پارٹنر ہے اور اس کا بیٹا انہی کے لیے کام کرتا ہے اور بہاولپور کے تمام تھانہ کی سطح کے معاملات کو جاوید نامی یہی اہل کار مینج کرتا ہے۔ انہوں نے باقاعدہ تربیت یافتہ ٹاؤٹ شہر بھر میں پھیلا رکھے ہیں حتیٰ کہ بہاولپور کی مختلف تحصیلوں میں بھی ان کے کمیشن پر ٹاؤٹ کام کرتے ہیں جو مختلف عام قسم کی محفلوں میں بیٹھ کر گپ شپ کے اندر بتاتے ہیں کہ کل انہوں نے کمپیوٹر پر گیم کھیلی اور 20 منٹ میں 10 ہزار سے 15 ہزار روپیہ کمایا جبکہ ان کے پالتو چند خوش لباس اور خوش شکل ایجنٹ شہر کی بڑی بڑی شخصیات کو شیشے میں اتار کر انہیں جوئے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ بنایا گیا ہے کہ بہاولپور سے تبدیل ہو کر جانے والا ایک پولیس افسر بھی ان کا مبینہ سرپرست رہا ہے اور یہ آج بھی اس کی سرپرستی کرتے ہیں حالانکہ وہ بہاولپور سے کئی میل دور ایک دوسرے ضلع میں تعینات ہے۔ متعلقہ افسران کو قیمتی موبائل گفٹ کرنا حتیٰ کہ بعض با اثر طبقے کے لوگوں کے گھروں پر دعوت کے نام پر کھانے بھجوانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دانیال کاظمی کا یہ کہنا ہے کہ افسران اور ان کی فیملیز کو اچھی خوراک یعنی پیٹ کے ذریعے رام کیا جا سکتا ہے اور سیاسی اثر رکھنے والے افراد قیمتی موبائل کا تحفہ بڑے شوق سے قبول کر لیتے ہیں۔ افضال گیلانی کھلے عام یہ بے بنیاد الزام عائد کرتا ہے کہ ہم جتنا کماتے ہیں اس کا 15 فیصد متعلقہ اداروں کو کھلا دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ این سی سی آئی ،ایف آئی اے اور پولیس ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ افضال گیلانی ،خادم گیلانی نامی ایک شخص کا بیٹا ہے، محلہ عام خاص روشن شاہ کا رہنے والا ہے جبکہ دانیال کاظمی عباسی سٹریٹ فتح خان بازار کا رہنے والا ہے۔ چند ماہ قبل ایک پولیس آفیسر کے بیٹے نے ان کے بیٹ پرو نامی سسٹم پر جوا کھیلا اور دو لاکھ روپیہ ہار گیا جب انہیں پتہ چلا کہ وہ پولیس والے کا بیٹا ہے تو فوری طور پر دگنی رقم اور ایک موبائل اس لڑکے کو د ے کر خاموش کرا دیا تھا تاکہ اس کے والد کو پتہ نہ چل سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ عبد الوہاب نامی شخص ان کے شعبہ مارکیٹنگ کا سربراہ ہے۔







