عالمی سطح پر جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کی لہروں کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ جولائی 2026 میں بڑھ کر 131.1 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران چینی کی عالمی قیمت میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اناج کی قیمتیں مجموعی طور پر 3.4 فیصد بڑھیں۔ صرف گندم کی قیمت میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایف اے او کے مطابق یورپ میں جون کے دوران آنے والی شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ ٹن گندم، جو، مکئی اور جئی سمیت مختلف فصلیں متاثر ہوئیں، جس سے عالمی غذائی سپلائی پر مزید دباؤ بڑھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدید گرمی نے دنیا کے کئی اہم زرعی ممالک میں گندم کی پیداوار کو متاثر کیا، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بحیرہ اسود کے ذریعے اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں نے بھی عالمی قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری حملوں کے باعث برآمدی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور شپنگ میں پیدا ہونے والی مشکلات نے بھی عالمی منڈی پر دباؤ بڑھایا ہے۔
ایف اے او کے مطابق یورپی یونین میں مسلسل گرم اور خشک موسم، ایل نینو کے ممکنہ اثرات اور برازیل میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ سے متعلق نئے ضوابط کے باعث چینی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا۔
اسی طرح خوردنی تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں بائیو ڈیزل کی بڑھتی ہوئی طلب اور خام تیل کی بلند قیمتیں اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے کھاد کی دستیابی اور لاگت کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔
دوسری جانب گوشت کی عالمی قیمتوں میں جولائی کے دوران 2.8 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جو رواں سال گوشت کی قیمتوں میں پہلی ماہانہ کمی ہے۔ مرغی، سور اور گائے کے گوشت کے نرخ کم ہوئے، تاہم شدید گرمی کے باعث مویشیوں کی افزائش متاثر ہونے سے قیمتوں میں مزید کمی محدود رہی۔
دودھ اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 0.7 فیصد کمی ہوئی، جس کی بڑی وجہ مکھن اور دودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی بتائی گئی ہے۔
ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام غذائی اجناس کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات آنے والے مہینوں میں صارفین تک منتقل ہو سکتے ہیں، کیونکہ سپلائرز اپنی بڑھتی ہوئی لاگت کو خوردہ قیمتوں میں شامل کریں گے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث آئندہ سال کے اختتام تک مزید 5 کروڑ افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرنے والے غریب ممالک میں خوراک کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔







