بہاولپور (سٹاف رپورٹر)ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کرپشن سکینڈل، درجہ چہارم کی بھرتیوں میں کھینچا تانی عروج پر 29 صفحات کی حتمی انکوائری رپورٹ نے محکمے میں ہلچل مچا دی۔مرکزی کردار کی بچنے کے لیے کروڑوں کی دوڑ دھوپ شروع، متاثرہ ملازمین کا سیکرٹری ہیلتھ کی جم خانہ رہائش گاہ اور ہائیکورٹ کے باہر شدید احتجاج محکمہ صحت بہاولپور میں درجہ چہارم کی بھرتیوں کے دوران ہونے والی مبینہ لوٹ مار اور کرپشن کا اسکینڈل اب ایک انتہائی فیصلہ کن اور دھماکے دار موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت قائم کی جانے والی اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی نے اپنی جامع اور مفصل رپورٹ میں تمام الزامات کو سو فیصد سچ ثابت کرتے ہوئے ملوث عناصر کے گردشکنجہ سخت کر دیا ہے۔29 صفحات کی انکوائری رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات ڈاکٹر ذیشان رؤف ڈاکٹر اویس عارف، ڈاکٹر عثمان چیمہ اور ڈاکٹر ہنزہ بتول پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے تمام ریکارڈ اور شواہد کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد 29 صفحات پر مشتمل حتمی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو جمع کرا دی ہے رپورٹ میں سکینڈل کے اصل ماسٹر مائنڈ اور مرکزی کردار سینئر کلرک کو عبرت ناک سزا دینے کی دوٹوک سفارش کی گئی ہے۔ سفارشات کے مطابق موصوف کو تنزلی کر کے جونیئر کلرک (BS-11) بنانے اور ان کی 3 سال کی سروس ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر بہاولپور نے بھی بھرتیوں کے اس عمل میں ہونے والی سنگین مالیاتی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے جس کے بعد اس کرپشن میں ملوث دیگر بااثر افسران و عہدیداران کے خلاف بھی پیڈا ایکٹ کے تحت سخت ترین تادیبی کارروائی کے لیے حتمی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔متاثرہ ملازمین نےسیکرٹری ہیلتھ کی رہائش گاہ پر احتجاج کیا۔تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وہ غریب اور مظلوم ملازمین بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں جن کی جمع پونجی لوٹی گئی تھی۔ متاثرہ ملازمین محمد مجاہد، دلشاد بھٹی، محمد عرفان، محمد عمران، صفدر حسین، جاوید اور دیگر درجہ چہارم کے ملازمین نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ سینئر کلرک نے ملازمت کا جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں روپے نقد وصول کیے۔ذرائع کے مطابق جب سیکرٹری ہیلتھ بہاولپور تشریف لائیں اور جم خانہ میں قیام پذیر رہائش پذیر ہوئیں تو متاثرہ ملازمین نے وہیں پہنچ کر شدید احتجاج اور نعرے بازی کی اور بعد ازاں ہائیکورٹ کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔ جم خانہ کی رہائش گاہ کے باہر غریب ملازمین کی دہائی پر سیکرٹری ہیلتھ نے اس معاملے کا فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کے واضح احکامات جاری کیے تھے۔فیصلہ سامنے آتے ہی سزا یافتہ سینئر کلرک کے ہوش اڑ چکے ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ موصوف نے اپنی گردن بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کو بدلوانے اور غائب کروانے اور ایک من پسند نئی کمیٹی تشکیل دلانے کے لیے پس پردہ بھاگ دوڑ عروج پر ہے۔ باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 صفحات پر مشتمل اس مستند دستاویزی اور دستخط شدہ رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈلوانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مبینہ استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ محکمے میں من مانی کرنے والا یہ مرکزی کردار صرف کاغذی کارروائی اور دفتری کرپشن تک محدود نہیں بلکہ موصوف کا ایک دوسرا روپ بطور ٹھیکیدار بھی سامنے آ چکا ہے جو کہ سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق (Service Rules) کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔محکمہ صحت کے دیانت دار ملازمین اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے یہ تلخ سوالات اٹھائے ہیں کیا اینٹی کرپشن اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں کرپٹ عناصر کو قانون کی گرفت سے نکال کر دوبارہ کلین چٹ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے کیا 29 صفحات پر مبنی اس مضبوط انکوائری رپورٹ کو فائلوں تلے دبا دیا جائے گا یا قانون اپنا راستہ خود بنائے گا انے والے چند روز میں اس ہائی پروفائل سکینڈل کے حوالے سے مزید بڑے دھماکے دار اور تہلکہ خیز انکشافات متوقع ہیں۔







