لاہور (بیورو رپورٹ) گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ( موضع پاجیاں و نانک ) رائے ونڈ روڈ لاہور کے سینکڑوں متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ دو عشروں سے سوسائٹی کے معاملات میں سنگین مالی بے ضابطگیاں، ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، غیر قانونی پلاٹ فروخت، چائنہ کٹنگ جس میں ایک کنال کے پلاٹ کو 17 مرلے کا بنا دیا گیا اور سرکاری واجبات میں خورد برد کے ذریعے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے کی جا رہی ہے۔متاثرین کے مطابق گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی 1996 میں ایل ڈی اے کے منظور شدہ نقشے کے مطابق معرض وجود میں آئی جس میں پنجاب گورنمنٹ کے ملازمین کو آسان اقساط پر قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹ الاٹ کیے گئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی دو عشروں تک معاملات معمول کے مطابق چلتے رہےتاہم 2017 کے الیکشن میں جب کاشف نامی ایڈووکیٹ صدر، ندیم اکرام ورک نائب صدر ، ظفر اقبال جنرل سکرٹری منتخب ہوئے تو اس کے ساتھ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ متاثرین کا الزام ہے کہ ندیم اکرام ورک اور ارکان منتخب مینجمنٹ کمیٹی نے سب سے پہلے کرپشن کی ابتدا 2018 میں ہر پلاٹ پر سالانہ سکیورٹی چارجز ایک ہزار روپے فی پلاٹ سے بڑھا کر دس ہزار روپے سالانہ اور الیکٹرسٹی چارجز کی مد میں 90 ہزار روپے فی پلاٹ اضافی عائد کر دیئے حالانکہ الیکٹرسٹی چارجز کی مد میں تمام مالکان سال 2008 کے دوران 45,000 روپے پہلے فی پلاٹ پہلے ہی ادا کر چکے تھے۔ متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ندیم اکرام ورک نے اسٹامپ ڈیوٹی کی مد میں گزشتہ عشرہ کے دوران سوسائٹی کے پلاٹوں کی خرید اور فروخت کے دوران جمع کرائی جانے والی اسٹامپ ڈیوٹی اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس کی رقم خود وصول کرکے خزانہ میں جمع کرانے کی بجائے خود کھا پی گیا جو تقریبا ً20 کروڑ روپے بنتی ہے۔ندیم اکرام ورک نے 2021 کے الیکشن میں دھاند لی کے لیے قبل از وقت منصوبہ بندی کی اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور سٹاف کی ملی بھگت سے 150 جعلی ووٹ بنوا کر ووٹر لسٹ میں شامل کرا دیے اور اپوزیشن ممبران کے کھاتے میں سات سات لاکھ کے ناجائز واجبات ڈال کر انہیں نادہندہ بنا کر ووٹنگ میں حصہ لینے سے نااہل قرار دلوا دیا۔ اسی سازش کے تحت ندیم اکرام ورک سوسائٹی کا صدر، یاور خلیل (جو اچھی شہرت کا مالک نہ تھا اور اس کا رشتہ دار تھا) نائب صدر، نوید انجم جنرل سکرٹری اور طارق محمود فنانس سیکرٹری پر مشتمل اپنے من پسند افراد پر مشتمل مینجمنٹ کمیٹی بنا لی جس کے بعد مبینہ طور پر جعلی ووٹوں کے ذریعے سوسائٹی کے انتظامی امور پر قبضہ کر لیا تو ندیم اکرام ورک نے من مانے انداز میں کرپشن شروع کر دی۔ اپوزیشن نے عرصہ 6 ماہ کے اندر ندیم اکرام ورک کو چند بے ضابطگیوں کے الزام کے تحت مینجمنٹ کمیٹی سے نااہل قرار دے دیا مگر یہ نااہل ہونے کے باوجود اپنے من پسند مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان کی ملی بھگت اور کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی آشیر باد سے سوسائٹی کے معاملات پر پوری طرح قابض رہا۔سال 2022 کے دوران ندیم اکرام ورک نے قواعد و ضوابط کے تحت کسی جنرل باڈی کی منظوری کے بغیر ہی سوسائٹی کے ہر پلاٹ پر پانچ لاکھ روپے اضافی ڈویلپمنٹ چارجز، ڈال دیے جبکہ ماہانہ سکیورٹی چارجز فی پلاٹ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر بیس ہزارروپے کر دیے جس کے لئے قواعد و ضوابط کے تحت کسی جنرل باڈی کی منظوری نہ لی گئی۔ اس کے علاوہ ندیم اکرام ورک نے قواعد و ضوابط کے تحت جنرل باڈی کی منظوری کے بغیر سوسائٹی کے ہر پلاٹ پر ہر دو فریقین یعنی خرید کنندہ اور فروخت کنندہ پر بطور غنڈہ ٹیکس سات لاکھ روپے جبری کٹوتی (وصولی) شروع کر رکھی ہے۔ 2022 کے بعد ندیم اکرام ورک نے ایل ڈی اے کے منظور شدہ نقشے میں ردوبدل کرتے ہوئے چائنہ کٹنگ کے ذریعے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر کسی منظوری کے بغیر اصل مالکان کے 20 مرلے کی پلاٹ کی پیمائش 17 مرلے میں تبدیل کرکے 100 پلاٹ اضافی بنائے اور 70 لاکھ فی پلاٹ کے حساب سے فروخت کرکے 70 کروڑ روپیہ ہڑپ کر لیا۔ 2023 میں ندیم اکرام ورک نے ایل ڈی اے کے منظور شدہ نقشے میں مزید ردوبدل کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے خلاف کسی منظوری کے بغیر سوسائٹی کے اے بی اور سی سیکٹر کے قبرستان، سکول ،پارک ، کمیونٹی بلڈنگز اور ڈسپوزل ورکس جیسی اہم سہولیات کے لیے مختص اراضی میں سے کم از کم 100 مزید پلاٹ اضافی نکال لیے اور 70 لاکھ روپیہ فی پلاٹ کے حساب سے فروخت کرکے 70 کروڑ روپیہ کی خطیر رقم خورد برد کر لی ۔متاثرین کے مطابق ندیم اکرام ورک نے 2024 کے الیکشن میں بھی دھاندلی کے لیے پیش از وقت منصوبہ بندی کی اور کوآپریٹو سوسائٹیز افسران اور سٹاف کی ملی بھگت کے ساتھ 100 جعلی ووٹ بنوا کر ووٹر لسٹ میں شامل کرا دیئے اور اپوزیشن ممبران کے کھاتے میں سات سات لاکھ کے ناجائز واجبات ڈال کر انہیں نادہندہ بنا کر ووٹنگ میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیااور اسی سازش کے تحت ندیم اکرام ورک نے اپنے بھائی امریکی شہری اور بیرون ملک مقیم آصف اکرام ورک کو سوسائٹی کا صدر، شفقت شاہ کو نائب صدر، طارق مسعود کو جنرل سیکرٹری اور ندیم سرور کو فنانس سیکرٹری بنوا کر اپنے من پسند افراد پر مشتمل مینجمنٹ کمیٹی بنا لی اور مبینہ طور پر جعلی ووٹوں کے ذریعے سوسائٹی کے انتظامی امور پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد ندیم اکرام ورک نے من مانے انداز میں کرپشن شروع کردی اور اپنے من پسند مینجمنٹ کمیٹی کے ارکان کی ملی بھگت سے سوسائٹی کے معاملات چلانے میں پوری طرح قابض ہے۔ سب سے بڑا فراڈ گورنمنٹ آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی B سیکٹر کمرشل اسٹیٹ کے لئے مختص شدہ دو ایکڑ جس میں22،22مرلے کے چار کمرشل پلاٹ ایل ڈی اے سے منظور شدہ تھے جو بی سیکٹر میں سات سات مرلے کے 28 پلاٹ بنتے تھے، ندیم اکرام ورک نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی منظوری کے بغیر چائنہ کٹنگ کے ذریعے اس سے اضافی 50 پلاٹ کمرشل نکال کر سوا کروڑ روپے فی پلاٹ کے حساب سے فروخت کر دیے جس سے ندیم اکرام ورک نے 55 کروڑ روپے خرد برد کر لیے۔ سال 2022 سے 2025 تک یہ تمام خرید و فروخت کرنے والے فریقین سے گین ٹیکس کی مد میں سات لاکھ روپیہ نقد جمع کرا نے کے لیے اس بنیاد پر لیتا رہا کہ سوسائٹی نے ڈپٹی کمشنر آفس کے مقرر کرہ موضع کی اوسط بیع کے خلاف اپیل کی ہوئی ہے جس کا سوسائٹی کے حق میں فیصلہ ہونے پر فریقین کو بقایا رقم واپس کر دی جائے گی جو کسی کو آج تک کوئی روپیہ واپس نہیں کیا گیا۔ ایک عام اندازے کے مطابق اگر ہر ماہ 100 پلاٹس کی خرید و فروخت ہونے پر سات لاکھ روپیہ فی کے حساب گین ٹیکس لیا گیا ہو تو 2022 سے 2026 تک 50 ماہ کے دوران 500 پلاٹس کی خرید و فروخت پر 35 کروڑ کی رقم کا خورد برد ہوا ہے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور کوئی رقم حکومت کے خزانہ میں جمع نہیں کرائی گئی۔ ندیم اکرام ورک نے 2022 سے 2025 کے عرصے میں کالونی کے اندر اور چاروں اطراف ہزاروں قد آور درخت بھی مبینہ طور پر قواعد کے تحت متعلقہ اداروں کی اجازت کے بغیر کاٹ کر بیچ کر کروڑوں روپے غبن کر دیے گئے۔ متاثرین نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ ندیم اکرم ورک نے سوسائٹی کے ریکارڈ سے اوریجنل فائلوں میں مجرمانہ رد و بدل کر کے متعدد اصل الاٹیز کی بعض فائلیں غائب یا تلف کر دی گئیں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے سیکڑوں پلاٹوں کی ملکیت مبینہ طور پر نئے خریداروں کے نام غیر قانونی طریقے سے منتقل کر دی ہے۔ 22 سے 2026 تک تقریباً 500 پلاٹوں کے معاملے میں مالکان کو کچھ علم نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو جبکہ فرضی شناختی کارڈ منگوا کر مالکان کے نام پر لیٹر پرنٹ کیے گئے، فائلوں میں لگائے گئے اور سرکاری ریکارڈ کو تلف یا جلایا گیا۔ اس مبینہ کرپشن میں ندیم اکرام کا والد اکرام ورک اور اس کی من پسند مینجمنٹ کمیٹی شامل ہے۔ ان گماشتوں کے ذریعے جعلی شناختی کارڈز، اور فرضی ملکیت کے لیٹرز استعمال کرکے یہ سارا کاروبار چلایا جا رہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ندیم اکرام ورک نےاپنےامریکی مقیم بھائی آصف ورک کے نام اور اپنے والد اکرام ورک کے خاندانی اثر و رسوخ کو استعمال کرکے کالونی کے معاملات پر قبضہ کیا ہوا ہےاور اس سارے معاملے میں کوآپریٹو کے کچھ افسران اور اہلکاروں کا تعاون اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے روابط 15 ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کی وجہ سے بہت مضبوط ہو چکے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان تمام مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین اور دیگر الاٹیز شدید مالی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی مالی بے ضابطگیوں کا حجم 15 ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے، تاہم اس کی درست مالیت صرف آزادانہ فرانزک آڈٹ اور سرکاری تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری کوآپریٹو سوسائٹیز، رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، ایف آئی اے ، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹی کے تمام مالی معاملات، ریکارڈ، پلاٹ ٹرانسفر، وصول شدہ ٹیکسوں، ترقیاتی اخراجات اور اراضی کی فروخت کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔







