اسلام آباد: تیل کمپنیوں نے ملک میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل وزیرِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ عوام کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ملک میں تقریباً دو ماہ کے پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں۔
تاہم، 15 جولائی کو وزیرِ توانائی کے نام بھیجے گئے “انتہائی فوری” خط میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں پیٹرول کی فراہمی کی صورتحال غیر معمولی حد تک سنگین ہو چکی ہے۔
کونسل کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کا ذخیرہ موجود ہے، جو صرف 15 دن کی ملکی ضرورت کے لیے کافی ہے۔
تیل کمپنیوں نے خط میں بتایا کہ ویبوک (WeBOC) سسٹم میں تاخیر کے باعث درآمدی پیٹرول کی کسٹمز کلیئرنس متاثر ہو رہی ہے۔ اگر درآمدی پیٹرول کے تین کارگو بروقت کلیئر نہ ہوئے تو سپلائی کا سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کمپنیوں نے مزید کہا کہ 66.7 ارب روپے کی عدم ادائیگی کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ کم ذخائر، درآمدی ایندھن کی کلیئرنس میں تاخیر، طلب میں اضافے اور مالی مشکلات پیٹرول کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔







