“قوم” مظلوم خاندان کی آواز بن گیا، 3 سالہ مغوی بچہ بازیاب ماں کی دعائیں

ملتان (عامر ملک سے) روزنامہ قوم کی صحافتی جدوجہد رنگ لے آئی۔ روزنامہ قوم کی ٹیم کی کوششوں سے والدہ سے زبردستی انگوٹھے لگوا کر چھینا جانے والا تین سالہ بچہ کراچی سے ملتان پولیس کی مدد سے بازیاب کروا کر ملتان میں مقیم اس کی 17 سالہ والدہ کے حوالے کروا دیا، ماں کی گود پھر سے خوشیوں سے بھر گئی۔ماں بیٹی ننھے بچے سمیت ’’قوم‘‘ دفترپہنچ گئے،روزنامہ قوم کی ٹیم کو ماں بیٹی نےڈھیروں دعائیں دیں،مٹھائی تقسیم کی۔10 روز قبل قاسم پور کالونی ملتان کی 55 سالہ بیوہ نے اپنی 17 سالہ بیٹی کے ہمراہ روزنامہ قوم کے دفتر آکر بتایا کہ اس کی بیٹی سے کراچی میں مقیم اس کی ساس نے تین سالہ بیٹے کو چھین کر زبردستی سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کے بعد اس کی بیٹی کو طلاق دے کر ملتان بھجوا دیا ہے اور وہ بچہ بھی ماں کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہے۔ روزنامہ قوم کی رپورٹنگ ٹیم نے زار و قطار روتی ہوئی ماں کی اجڑی ہوئی دنیا دوبارہ آباد کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی اور ممتاز آباد پولیس کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا کیونکہ قانون بھی یہی کہتا ہے کہ سات سال کی عمر تک کوئی بھی بچہ اپنی والدہ کی گود میں پرورش پائے گا۔ بے بس خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ فریاد لے کر روزنامہ قوم کے دفتر پہنچی اور اپنے تین سالہ نواسے کی مبینہ اغوا کی روداد سنائی اور بتایا کہ اسے کسی نے کہا ہے کہ روزنامہ قوم کے دفتر چلے جائیں وہ فلاحی کام کرتے ہیں اور آپ کے بچے کی برآمدگی کروا دیں گے جس پر میں ایڈریس پوچھتے پوچھتے یہاں پہنچ گئی ہوں۔ وہ ماں بیٹی بار بار یہی التجا کر رہی تھی کہ انہیں ان کا بچہ واپس دلوا دیں!یہ محض ایک خاتون کی فریاد نہیں تھی، خاتون نے بتایا کہ اس کا سگا بھائی اس کی بیٹی کے تین سالہ نواسے یعنی بیٹی کے بیٹے کو زبردستی چھین کراچی لے گیا اور وہ اپنے بچے کی واپسی کے لیے دربدر دھکے کھا رہی ہے مگر کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ روزنامہ قوم کی ٹیم نے اس کی فریاد کو محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے ایک ذمہ داری کے طور پر لیا۔فریاد سے ایف آئی آر تک اس سارے معاملے کو فالو کیا اور پھر بچے کی واپسی تک کا سفر شروع ہو گیا۔روزنامہ قوم کی ٹیم نے متعلقہ پولیس کو رپورٹ کی تو سابق سی پی او صادق ڈوگر کی ہدایت پر فوری ایف آئی آر درج ہوئی اور بچے کی بازیابی کے لیے قانونی و انتظامی کارروائی آگے بڑھتی گئی۔ مسلسل کوششوں اور بروقت اقدامات کے نتیجے میں بالآخر تین سالہ بچہ ماں کو کراچی سے بازیابی کے بعد واپس مل گیا۔یہ لمحہ یقیناً اس خاندان کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ جس گھر میں بچے کی جدائی نے بے چینی اور غم کے سائے پھیلا رکھے تھے، وہاں اس کی واپسی نے امید اور خوشی کی نئی کرن روشن ہو گئی۔ اس طرح روزانہ قوم ایک مظلوم کی داد رسی کا سبب بن گیا۔ روزنامہ قوم نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ صحافت کا مقصد صرف واقعات کی رپورٹنگ، سرخیوں کی تیاری اور صفحات کی تکمیل نہیں، بلکہ معاشرے کے مظلوم، بے بس اور محروم طبقات کی آواز بننا ہی حقیقی عوامی صحافت اور روزانہ قوم کے مینجنگ ایڈیٹر نعیم احمد شیخ اور چیف ایڈیٹر میاں غفار کا مشن ہے۔روزنامہ قوم کی یہ اصولی پالیسی ہے کہ جب کوئی متاثرہ شہری اپنی فریاد لے کر ادارے کے دفتر آئے تو اس کی آواز کو ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ فورمز تک پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو، مسئلے کے حل کے لیے مسلسل پیروی کی جائے۔اس واقعے میں بھی ایک خاتون کی فریاد کو سامنے لانے کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا، ایف آئی آر درج ہوئی اور بالآخر بچے کی واپسی ممکن ہوئی۔ یہ کامیابی اس بات کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ ذمہ دار صحافت، شہریوں کی آواز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی مل کر متاثرہ خاندانوں کے لیے امید پیدا کر سکتی ہے اور ملتان پولیس کے اس بروقت اقدام نے پولیس کی اس اقدام سے بھرپور تاثر عوام تک پہنچا کہ پولیس جہاں سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کرتی ہے اور بے بس اور بے سہارا عوام کی خدمت بھی کرتی ہے جسے بدقسمتی سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔تین سالہ بچے کی واپسی کی یہ کہانی صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنی فریاد سنانے کے لیے کسی مؤثر آواز کے منتظر ہوتے ہیں۔روزنامہ قوم کا پیغام یہی ہے کہ مظلوم کی آواز بننا ہی حقیقی صحافتی خدمت ہے جو بتدریج معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں