فائر وال پر 40 ارب بے کار،بچوں کے استحصال پرمبنی مواد والی ویب سائیٹس برقرار،جنسی تشدد، جان لیوا واقعات تیز

ملتان (قوم ریسرچ سیل)40 ارب کی فائر وال مگر چائلڈ پورنوگرافی ویب سائٹس مکمل بلاک نہ ہو سکیں۔بے راہ روی کی راہیں،انٹرنیٹ پرغیراخلاقی موادسے بچوں کے ذہن مفلوج ،غیراخلاقی عادات میں مبتلا،کردارو مستقبل تباہ ،بچوں کیساتھ زیادتی وقتل کے اندوہناک واقعات بڑھ گئے۔چھوٹے بچے خصوصاً نشانے پر،حکومتی اداروں کی کارروائیاں وقوانین کاغذوں میں رہ گئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد روکنے، فلٹر کرنے اور قابل اعتراض مواد تک رسائی محدود کرنے کے لیے تقریباً 40 ارب روپے کی لاگت سے فائر وال کا نظام قائم کیامگراتنے بڑے اخراجات کے بعد بھی قوم کے بچوں کو چائلڈ پورنوگرافی جیسے انتہائی سنگین اور نقصان دہ مواد سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنایا جا سکا ۔چائلڈ پورنوگرافی محض فحش مواد کا مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے جنسی استحصال، بنیادی حقوق، تحفظ اور مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا سنگین جرم ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت اگر غیر قانونی آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے 40 ارب روپے خرچ کر سکتی ہے تو چائلڈ پورنوگرافی کی ویب سائٹس اور بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کو مکمل طور پر روکنے کے لیے مزید وسائل خرچ کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت پڑے تو حکومت مزید اربوں روپے خرچ کرے، جدید ترین ٹیکنالوجی اور مؤثر فلٹرنگ نظام نصب کرےمگر قوم کے نونہالوں کو اس انتہائی نقصان دہ مواد تک رسائی سے محفوظ بنایا جائے۔صرف ویب سائٹس کو ایک مرتبہ بلاک کرنا کافی نہیں، کیونکہ ایسے جرائم پیشہ عناصر نئے روابط، مختلف ویب پتوں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے دوبارہ یہی مواد سامنے لا سکتے ہیں۔ اس لیے ایسا نظام ضروری ہے جو مسلسل نگرانی کرے، نئے روابط کی فوری نشاندہی کرے اور قانون کے مطابق انہیں فوری طور پر بلاک کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ مجرمانہ نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائے۔چائلڈ پورنوگرافی کی روک تھام صرف ویب سائٹس بلاک کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس مواد کی تیاری، فروخت، تشہیر، ترسیل اور بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف بھی فوری اور سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، شکایات پر فوری کارروائی کا نظام بنایا جائے اور متاثرہ بچوں کی شناخت، حفاظت اور بحالی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں۔حکومت کو چاہیے کہ چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف اقدامات کی سالانہ بنیاد پر کارکردگی رپورٹ بھی عوام کے سامنے لائے کہ کتنی شکایات موصول ہوئیں، کتنی ویب سائٹس اور روابط بلاک کیے گئے، کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس سے نہ صرف نظام کی کارکردگی واضح ہوگی بلکہ اداروں کی جواب دہی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔اگر حکومت غیر قانونی مواد کی روک تھام کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تو بچوں کو چائلڈ پورنوگرافی اور جنسی استحصال پر مبنی مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانا ہوں گے۔ ضرورت پڑے تو مزید وسائل مختص کیے جائیں اور جدید ترین فائر وال و فلٹرنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے، لیکن بچوں کے محفوظ مستقبل پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں