علی بابا کی آمد: پاکستان کیلئے نئی اقتصادی راہیں

پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے دنیا کی معروف ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کی ذیلی کمپنی کوکو ٹیک کو نان بینکنگ فنانس کمپنی کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام سے علی بابا گروپ نے پاکستان میں باضابطہ طور پر قدم رکھ دیا ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔اس پیش رفت کے تحت اب پاکستانی صارفین ای کامرس پلیٹ فارمز سے آسان قسطوں پر اشیا خرید سکیں گے۔’’ اب خریدو، بعد میں ادا کرو‘‘ (Buy Now, Pay Later) کی یہ سہولت نہ صرف صارفین کے لیے سہولت پیدا کرے گی بلکہ آن لائن خریداری کے رجحان کو بھی فروغ دے گی۔ جب لوگ آسان اقساط پر اشیا خرید سکیں گے تو ای کامرس کے ذریعے تجارت کو فروغ ملے گا اور مارکیٹ میں وسعت آئے گی۔اس اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے نوجوانوں، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کو ہوگا۔ چیئرمین ایس ای سی پی کبیر احمد سدھو کے مطابق علی بابا گروپ کی شمولیت سے مالیاتی خدمات تک رسائی بہتر ہوگی اور مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا جس سے جدت کو فروغ ملے گا۔ جب عالمی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی تو مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں صارفین کو بہتر سہولیات اور کم قیمتوں کا فائدہ حاصل ہوگا۔پاکستان میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات 3.8 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ فری لانسرز کی کمائی 779 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے . یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ علی بابا جیسی کمپنی کی آمد اس ترقی کو مزید رفتار دے گی۔علی بابا پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرے گی، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی مہارتوں کی تربیت کو فروغ ملے گا۔ جب بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز قائم کریں گی تو مقامی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سیکھنے اور عالمی معیار کے تجربات حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی حکومتی پالیسیوں کے مطابق ہے۔ حکومت کی جانب سے ای کامرس پالیسی 2.0 کی منظوری دی جا رہی ہے جس کا مقصد 2030 تک آن لائن تجارت کو 20 بلین ڈالر تک بڑھانا ہے . اس پالیسی کے تحت ڈیجیٹل کامرس کو مضبوط بنانے، صارفین کے تحفظ اور ای کامرس کے معیارات طے کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔پاکستان میں انٹرنیٹ براڈبینڈ سبسکرپشنز کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ٹیلی کام کنکشنز 20 کروڑ سے زائد ہیں . یہ وسیع صارف بنیاد علی بابا جیسی کمپنیوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔ پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کے لیے ایک بڑی منڈی فراہم کرتی ہے۔یہ اقدام پاکستان کے تاجروں کے لیے بھی نئی راہیں کھولے گا۔ چھوٹے کاروبار اب علی بابا کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مصنوعات کو آن لائن فروخت کر سکیں گے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔فری لانسرز کے لیے بھی یہ ایک اچھا موقع ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں