بجٹ تقریر وقت کا ضیاع، 24 لاکھ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال دیا: چیمبر آف کامرس

ملتان (جنرل رپورٹر،نیوزرپورٹر)ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے قائمقام صدر اظہر بلوچ نے وفاقی بجٹ 2026/27 پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں چند مثبت اعلانات ضرور کیے گئے ہیں، تاہم کاروباری اور صنعتی شعبے کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں اور اسے مکمل عوام دوست بجٹ قرار نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے یہ بات ایوانِ تجارت و صنعت ملتان میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی براہِ راست نشر ہونے والی بجٹ تقریر سننے کے بعد اپنے ردعمل میں کہی۔ اظہر بلوچ نے کہا کہ بجٹ تقریر سننے کے لیے دو سے تین گھنٹے انتظار کیا، لیکن تقریر سننے کے بعد محسوس ہوا کہ وقت ضائع ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے کسی مؤثر اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ صرف 24 لاکھ ٹیکس دہندگان 25 کروڑ عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور انہی پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ برآمدات میں اضافے کے لیے بھی کوئی نمایاں اسکیم متعارف نہیں کرائی گئی۔اظہر بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں چند ماہ قبل والی سطح پر واپس لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا، لیکن پاکستان میں لیوی بڑھا کر پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریونیو ہدف حاصل کرنے کے لیے کوئی باوقار اور پائیدار طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔ تاجر اور صنعتکار برادری ٹیکسز سمیت دیگر معاشی و صنعتی مسائل کے حل کے لیے متحد ہے اور یہ اتحاد برقرار رہے گا۔ ہم مل کر کام کریں گے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ دو سال قبل کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجلاس میں فیلڈ مارشل کی جانب سے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن شرح سود کم ہونے کے بجائے مزید ایک فیصد بڑھا دی گئی، جس سے صنعتی ترقی کا پہیہ رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کو ریلیف دینا ان کا حق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران طبقہ اپنے پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائے، قرضوں پر انحصار ختم کیا جائے اور مزید قرضے لینے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے ٹول ٹیکس میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جانے کے لیے تقریباً 3500 روپے ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جو زیادتی ہے اور اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔اظہر بلوچ نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں تک بھی توسیع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سپر ٹیکس اور کینسر کی ادویات کے خام مال پر ڈیوٹی کے خاتمے کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح مزید کم کی جائے جبکہ فکس ٹیکس اسکیم کی رجسٹریشن فیس 25 ہزار روپے کے بجائے 5 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ چھوٹے تاجر رجسٹرڈ ہوں اور حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو۔ایوان کے سابق صدر میاں راشد اقبال نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری محکموں میں اصلاحات کا کوئی واضح روڈ میپ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 238 ارب روپے جبکہ تعلیم کے لیے صرف 80 ارب روپے مختص کرنا حیران کن ہے، اس لیے مجموعی طور پر یہ بجٹ مایوس کن ہے۔سابق صدر خواجہ محمد حسین نے کہا کہ فکس ٹیکس اسکیم سے ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کرنے کے رجحان میں کمی آئے گی اور چھوٹے تاجروں کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے سپر ٹیکس کے خاتمے، وومن ہیلتھ اور انڈسٹریل پیکیجز پر ٹیکسوں کے خاتمے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص خطیر رقم صنعتی منصوبوں کے قیام پر خرچ کی جانی چاہیے تھی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہو۔ایوان کی ٹیکسیشن سب کمیٹی کے کنوینر طلعت جاوید نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ صرف مالی خسارے کا بوجھ پورا کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت اس وقت آئی سی یو میں ہے، لیکن پیش کردہ بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور آمدنی بڑھانے کے لیے بھی کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی گئی، جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔سابق صدر ظفر اقبال صدیقی نے پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکسوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا اور اس سے وابستہ متعدد صنعتیں بھی مستفید ہوں گی۔ تاہم انہوں نے فکس ٹیکس نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عدالت کی جانب سے ٹیکس چوری ثابت نہ ہو، کسی تاجر پر جرمانہ عائد نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ جرمانوں کی شرح بھی کم کی جانی چاہیے۔اس موقع پر شیخ محمد عاصم سعید، جہانزیب دھرالہ، نوید اقبال چغتائی، رب نواز ملک، عقیل قریشی، عرفان بلوچ، احتشام الحق، حاجی محمد اکرام، کاشان علی، چوہدری ذوالفقار علی اور سیکرٹری جنرل ایوان محمد شفیق بھی موجود تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں