وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ حکومت اسے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی ریلیف کا بجٹ قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اور ماہرین معاشیات اس میں موجود کئی خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ میں کچھ مثبت اقدامات ضرور شامل ہیں، تاہم مجموعی تصویر اب بھی ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتی ہے جو قرضوں اور سودی ادائیگیوں کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔بجٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کل اخراجات میں سے 8 ہزار 54 ارب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم دفاع، تعلیم، صحت، زراعت اور ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے مجموعی اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کا ایک بڑا حصہ اپنی آمدنی عوامی فلاح کے بجائے قرضوں کی خدمت پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
تاہم بجٹ میں چند ایسے فیصلے بھی سامنے آئے ہیں جنہیں عوامی مفاد میں قرار دیا جا سکتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرحوں میں کمی، خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کا خاتمہ، تعمیراتی شعبے کے لیے بعض مراعات، اور برآمدی شعبے کے لیے ریلیف پیکیج ایسے اقدامات ہیں جو معیشت میں کچھ مثبت سرگرمی پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز بھی مہنگائی کے دباؤ میں جزوی ریلیف فراہم کرے گی۔خصوصی طور پر یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں سولر پینلز اور سٹیشنری مصنوعات پر مجوزہ اضافی ٹیکس واپس لینے میں کامیابی حاصل کی۔ اگر سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کر دیا جاتا تو قابلِ تجدید توانائی کی جانب بڑھتا ہوا رجحان متاثر ہوتا اور بجلی کے بحران سے نبرد آزما عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جاتا۔ اسی طرح سٹیشنری پر اضافی ٹیکس لاکھوں طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک نیا بوجھ ثابت ہوتا۔ حکومت کا یہ مؤقف درست ہے کہ ہر آئی ایم ایف شرط کو من و عن تسلیم کرنا دانشمندی نہیں بلکہ قومی مفادات اور عوامی ضروریات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا انکم، مختلف خدمات اور بعض شعبوں پر نئے ٹیکس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اب بھی محصولات بڑھانے کے لیے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور اشرافیہ کو ٹیکس دائرے میں لانے کے بجائے ہمیشہ متوسط طبقے اور کاروباری سرگرمیوں پر انحصار کیا جاتا رہے گا؟حکومت کو چاہیے کہ قرضوں کے حصول کی خاطر عوام کا مزید معاشی استحصال نہ کرے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات اہم ضرور ہیں لیکن قومی خودمختاری، عوامی فلاح اور ترقیاتی ترجیحات اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ اگر بجٹ کا مقصد صرف مالیاتی اہداف حاصل کرنا ہو اور عوام کی زندگی میں بہتری نہ آئے تو اعداد و شمار کی خوبصورتی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ حقیقی کامیابی تب ہوگی جب معیشت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، روزگار بڑھے، مہنگائی کم ہو اور ریاست قرضوں کے دائمی چکر سے نکلنے کی سمت میں عملی پیش رفت کرے۔







