مظفرگڑھ(بیورو رپورٹ) — اینٹی کرپشن کی کارروائیاں تیز، چھاپوں اور گرفتاریوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ غازی خان نے ضلع کونسل مظفرگڑھ میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپے اور گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کی خبر کے بعد کارروائیوں کی رفتار مزید تیز کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد افسران و اہلکاروں پر جعلی کوٹیشن، ترقیاتی فنڈز میں خوردبرد اور مختلف سکیموں میں مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اینٹی کرپشن ٹیموں نے مختلف دفاتر اور مقامات پر چھاپے مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق ضلع کونسل کے سب انجینئر مجاہد حسین کو چیف آفیسرمیونسپل کمیٹی مظفرگڑھ کے دفتر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سابق چیف آفیسر ضلع کونسل اقبال خان، ایکسین فخر عباس، آڈٹ افسر ملک طارق اور جعلی کوٹیشن سکینڈل کے مرکزی کردار کنگ اعظم بلوچ کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن کی ٹیموں کے چھاپے جاری ہیں۔اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ متعدد نامزد ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں جن کی تلاش کے لیے ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ابتدائی معائنے اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز میں بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیںجن کی مزید تحقیق و تفتیش جاری ہے۔ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے اور اینٹی کرپشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ذمہ دار کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔







