ملتان (وقائع نگار) رکنی چیک پوسٹ سے سمگل شدہ سامان پنجاب کے مختلف علاقوں میں سمگل کیا جانے لگا۔ رکنی چیک پوسٹ پر مبینہ طور پر سمگل شدہ سامان سے لدی گاڑیوں کو رقم کے عوض گزرنے دینے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں ۔کسٹم انسپکٹر عمران اقبال نے مبینہ طورپرسمگل شدہ سامان لے جانے والے افراد سے مک مکا کرنے کے لیے چیک پوسٹ پر پرائیویٹ افراد عبدالقیوم،عبدالرحمان اور اللہ نور کو تعینات کیا ہوا ہے ۔ شہری اسد اللہ نے اس حوالے سے چیف کلکٹر کسٹمز جمیل ناصر کو ایک تحریری درخواست ارسال کرتے ہوئے معاملے کی فوری تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رکنی چیک پوسٹ سے روزانہ بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں گزرتی ہیں جن میں مبینہ طور پر خشک میوہ جات خشک دودھ،چھالیہ اور دیگر سمگل شدہ سامان موجود ہوتا ہے۔ شہری کے مطابق چیک پوسٹ پر تعینات کسٹمز انسپکٹر عمران اقبال کی نگرانی میں بعض نجی افراد مبینہ طور پر گاڑیوں کی آمدورفت اور چیکنگ کے معاملات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عبدالرحمن، اللہ نور اور عبدالقیوم نامی نجی افراد مبینہ طور پرسمگل شدہ سامان لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں اور مک مکا کے بعد گاڑیوں کو گزرنے دیا جاتا یے۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ان افراد میں سے عبدالقیوم مبینہ طور پر جی ڈی (GD) سے متعلق امور سنبھالتا ہے، جبکہ ڈیٹا انٹری آپریٹر قدرت اللہ اور لوئر ڈویژن کلرک یاسر مبینہ طور پر اس کی معاونت کرتے ہیں۔شہری اسد اللہ کے مطابق مذکورہ سرگرمیوں کے نتیجے میں روزانہ مبینہ طور پر لاکھوں روپے جمع کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب قومی خزانے کو کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات کی مد میں بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مبینہ طریقہ کار کے باعث حکومت کو ماہانہ کروڑوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔درخواست گزار نے چیف کلیکٹر کسٹمز سے مطالبہ کیا ہے کہ رکنی چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی آمدورفت، کسٹمز کلیئرنس، جی ڈی کے اندراج، ڈیوٹی کی ادائیگی اور چیکنگ کے طریقہ کار کا ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں لے کر اس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔شہری نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ چیک پوسٹ پر تعینات سرکاری و غیر سرکاری افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ذرائع کے مطابق درخواست میں گزشتہ عرصے کے دوران رکنی چیک پوسٹ سے گزرنے والی گاڑیوں، ان میں موجود سامان اور جمع ہونے والی کسٹمز ڈیوٹی کا تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سرکاری ریکارڈ اور زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں فرق تو موجود نہیں۔شہری اسد اللہ نے چیف کلیکٹر کسٹمز جمیل ناصر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کے ذریعے جائزہ لے کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ اگر قومی خزانے کو واقعی نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو اسے فوری طور پر روکا جا سکے۔







