جے یو آئی کی ملتان میں مفتی محمود کانفرنس، نفاذ اسلام آباد میں تمام ملک کے مسائل کا حل: مولانا فضل الرحمن

ملتان (وقائع نگار) جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام تاریخی قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم ملتان میں مفتی محمود کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن، مولانا اسعد محمود اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں مفتی محمودؒ کی دینی، علمی اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، عوامی مسائل، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔کانفرنس میں شرکاء کی بڑی تعداد کی شرکت کے باعث قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ اجتماع میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں، علمائے کرام، جماعتی ذمہ داران اور مختلف علاقوں سے آنے والے حامیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں جماعتی جدوجہد، تنظیمی اتحاد اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی و جمہوری کردار کی اہمیت پر زور دیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہاکہ نفاذاسلام میں تمام ملکی مسائل کاحل موجودہے۔ مفتی محمودؒ کی دینی و سیاسی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اصولوں پر مبنی طرزِ سیاست اور علمی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے ملکی حالات، عوام کو درپیش مشکلات اور سیاسی معاملات میں آئین و قانون کی بالادستی کی اہمیت پر گفتگو کی۔مولانا فضل الرحمٰن نے جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی مؤقف اور عوامی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جماعت کے کردار کو اجاگر کیا۔ ان کے خطاب کا مرکزی موضوع ملک میں جمہوری اقدار کا تحفظ، عوامی مسائل کی نشاندہی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مؤقف کو آگے بڑھانا رہا۔مرکزی رہنما مولانا اسعد محمود نے اپنے خطاب میں مفتی محمودؒ کے مشن، جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی جدوجہد اور ملک میں عوامی نمائندگی کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کارکنوں کے کردار اور جماعتی نظم و ضبط کو اہم قرار دیتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔مولانا اسعد محمود نے ملکی سیاسی حالات، معاشی ناہمواری اور عام آدمی کو درپیش مشکلات کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جماعتی کارکنوں کو اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر توجہ دلائی۔کانفرنس سے دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور مفتی محمودؒ کی زندگی، دینی خدمات اور سیاسی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ مفتی محمودؒ کی شخصیت دینی علم، اصول پسندی اور سیاسی بصیرت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتی ہے، جبکہ ان کی فکر اور جدوجہد سے نئی نسل کو متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رہنماؤں نے مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بڑھتے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی، آئینی حقوق کے تحفظ اور جمہوری عمل کے تسلسل کو بھی اہم قرار دیا۔مفتی محمودؒ کی خدمات کو خراجِ عقیدت مفتی محمود کانفرنس کا بنیادی مقصد ممتاز عالمِ دین اور سیاسی رہنما مفتی محمودؒ کی خدمات کو یاد کرنا اور ان کے افکار و نظریات کو اجاگر کرنا تھا۔ مفتی محمودؒ پاکستان کی دینی و سیاسی تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی زندگی، سیاسی کردار اور اصولی مؤقف نے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مفتی محمودؒ کی دینی و علمی فکر اور سیاسی جدوجہد سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے عوامی حقوق، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار کے لیے اپنا کردار جاری رکھا جائے گا۔قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں منعقدہ کانفرنس میں ہزاروں کارکنوں کی شرکت کو جمعیت علمائے اسلام کی تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم اجتماع قرار دیا گیا۔ مختلف علاقوں سے آنے والے شرکاء نے اپنے قائدین کے خطابات سنے اور جماعتی سرگرمیوں میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔کانفرنس کے ذریعے جمعیت علمائے اسلام کی قیادت نے جنوبی پنجاب میں اپنے سیاسی و تنظیمی مؤقف کو اجاگر کیا۔ اجتماع میں پیش کیے گئے خیالات اور رہنماؤں کے خطابات نے ملکی سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور آئینی و جمہوری معاملات کو نمایاں کیا۔جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر مفتی اسعد محمود نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو پستی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے، گزشتہ سال 5 ہزار ڈاکٹرز اور 11 ہزار انجینئرز ملک چھوڑ کر چلے گئے، بیرونی سرمایہ کاری آنے کے بجائے سرمایہ کار واپس جا رہے ہیں، جبکہ حکمران اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کی حکومت گرائی اور عمران خان کی حکومت ختم کی۔ پاکستان کو مسلسل تنزلی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور ملک کو بحرانوں سے دوچار کرنے والے آج بھی پاکستان کو پُرامن بنانے کے دعوے کر رہے ہیں۔قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اسعد محمود نے کہا کہ ملک کی مجموعی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت، سرمایہ کاری اور باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی جیسے مسائل ملک کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مزید کتنا برباد کیا جائے گا اور ملک میں مزید کتنے سیاسی ڈرامے کیے جائیں گے۔مفتی اسعد محمود نے کہا کہ ہم ہر لحاظ سے پاکستان کو تنزلی کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں۔ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیلنے والے عناصر آج بھی پاکستان میں امن قائم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن عوام کو درپیش مسائل اور ملکی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کی سیاسی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو گرانے اور سیاسی مخالفین کو اقتدار سے ہٹانے کو کامیابی سمجھنا ملک کے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہے۔مفتی اسعد محمود نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال 5 ہزار ڈاکٹرز اور 11 ہزار انجینئرز ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی اور سرمایہ کاروں کی واپسی ملکی معیشت کے لیے تشویش ناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آنے کے بجائے سرمایہ کار واپس جا رہے ہیں، جبکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اعتماد کی فضا، بہتر معاشی پالیسیوں اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے سرمایہ کاروں اور باصلاحیت افراد کا اعتماد بحال ہو سکے۔مفتی اسعد محمود نے اپنے خطاب میں سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور وفاق کی حکومتیں بھی ناجائز ہیں۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف تھا، جس کے ذریعے انہوں نے ملک میں حکومتوں کی تشکیل اور سیاسی نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ حکمران اس بات پر خوش ہیں کہ نواز شریف کی حکومت گرائی گئی اور عمران خان کی حکومت ختم کی گئی۔ ان کے مطابق ملک کے اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی محاذ آرائی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

مفتی محمود کانفرنس میں شرکت کیلئے آنیوالے امیر جے یو آئی بھکر انتقال کر گئے

ملتان(وقائع نگار)مفتی محمود کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے امیر جے یو آئی ضلع بھکر انتقال کر گئے قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس میں شرکت کے لیے ملتان آنے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ضلع بھکر کے امیر اچانک طبیعت خراب ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی اطلاع پر جماعتی حلقوں میں افسوس کی فضا پھیل گئی، جبکہ ساتھیوں اور کارکنوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق جے یو آئی ضلع بھکر کے امیر مفتی محمود کانفرنس میں شرکت کے لیے ملتان پہنچے تھے کہ اسی دوران ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے۔مرحوم کی وفات کی خبر ملتے ہی جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں، کارکنوں اور دیگر متعلقہ حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ جماعتی رہنماؤں اور کارکنوں نے مرحوم کی دینی و جماعتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔حافظ عبدالحمید ساجد ضلعی سرپرست جمعیت علماء اسلام بھکر کی نماز جنازہ آج تین بجے پنجگرائیں میں اداکی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں