ملتان(کورٹ رپورٹر)پنجاب بار کونسل کا جعلی ایل ایل بی ڈگریوں کے حامل وکلاء کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 125 وکلاء کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے. پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور (سندھ) کی جانب سے جعلی اور غیر قانونی طور پر جاری کی گئی ایل ایل بی ڈگریوں کے معاملے پر سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ابتدائی طور پر پنجاب بار کونسل میں رجسٹرڈ 125 وکلاء کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان کی سربراہی میں ممبران محمد مراد بھٹی، ظہیر احمد چیمہ، عظمت اسلام غلزئی، عمر حیات بھٹی اور سید زیشان حیدر نے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ جعلی ڈگری رکھنے والے وکلاء کے خلاف “زیرو ٹالرینس” پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور فوجداری مقدمات درج کرانے کی بھی سفارش کی جا سکتی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈر کے مطابق بار کونسل صوبہ پنجاب میں قانونی پیشے کو ریگولیٹ کرنے والا آئینی ادارہ ہے، جو وکالت کے وقار، ساکھ اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسی مقصد کے تحت وکلاء کے اندراج کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے سابقہ مینوئل تصدیقی نظام ختم کر کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے ڈگریوں کی آن لائن تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا۔ بار کونسل کے مطابق انرولمنٹ کی جانچ پڑتال کے دوران متعدد درخواست گزاروں کی جانب سے جعلی یا بوگس تعلیمی دستاویزات جمع کروا کر بطور وکیل اندراج حاصل کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا، جنہیں تصدیقی عمل کے دوران پکڑ لیا گیا۔ ایسے تمام افراد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے 7 جولائی 2026ء کو جاری کردہ سرکلر کے ذریعے آگاہ کیا کہ یونیورسٹی میں قانونی اور تعلیمی تقاضے پورے کیے بغیر ایل ایل بی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس جاری کیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے 11 اپریل 2026ء کو ایک انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک کالجوں کا ریکارڈ جانچنے کے بعد متعدد ایسی ڈگریوں کی نشاندہی کی، جو غیر قانونی طور پر جاری کی گئی تھیں، جس کے بعد سنڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان کی منسوخی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ یہ کارروائی پانچ سالہ ایل ایل بی پروگرام (بیچ 2017-18) اور تین سالہ ایل ایل بی پروگرام کے مختلف بیچز 2014-16، 2015-17 اور 2017-18 سے متعلق ڈگریوں، سرٹیفکیٹس اور امتحانی نتائج پر مشتمل ہے۔ یونیورسٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر تقریباً 1,200 امیدواروں کی فہرست بھی جاری کی ہے، جن کی ڈگریاں اس وقت منسوخی کی کارروائی کی زد میں ہیں۔ پنجاب بار کونسل کے مطابق شاہ عبداللطیف یونیورسٹی پہلے ہی اس کے زیر نگرانی تھی اور جنرل ہاؤس نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا تھا کہ اس یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری رکھنے والے کسی بھی امیدوار کا اندراج اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک اس کی ڈگری کی ایچ ای سی سے تصدیق نہ ہو جائے۔ بار کونسل کمیٹی نے مزید انکشاف کیا کہ ایک امیدوار نے یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایسی ایل ایل بی ڈگری پیش کی تھی جو بظاہر ایچ ای سی پورٹل سے تصدیق شدہ تھی، تاہم بعد ازاں انکوائری کے دوران امیدوار نے خود اعتراف کیا کہ یہ ڈگری جعلی تھی، جو یونیورسٹی کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، جس کے بعد اس نے ڈگری واپس کر دی۔ایگزیکٹو کمیٹی نے یونیورسٹی کی جاری کردہ 1,200 امیدواروں کی فہرست کا پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ سے موازنہ کیا، جس کے دوران ابتدائی طور پر 125 ایسے وکلاء کی نشاندہی ہوئی جن کا اندراج پنجاب بار کونسل میں موجود ہے۔ کمیٹی کے مطابق باقی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی بار کونسل کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض امیدواروں نے ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ایل ایل بی ڈگریاں جمع کرائیں، جس سے بادی النظر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی ڈگریوں کی تصدیق بھی کرائی گئی، جس کی مکمل تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے دفتر پنجاب بار کونسل کو ہدایت جاری کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام 125 وکلاء کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں اور انہیں 18 جولائی 2026ء کو ذاتی حیثیت میں ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے اپنے اصل تعلیمی اور علمی اسناد کے ساتھ پیش ہونے کا پابند بنایا جائے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جان بوجھ کر پیش نہ ہونے کو پیشہ ورانہ بددیانتی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں متعلقہ وکیل کی رجسٹریشن منسوخ کرنے سمیت قانون کے مطابق فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جبکہ کسی بھی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب بار کونسل نے اپنے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کو بھی اس کارروائی کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری 125 وکلاء کی فہرست میں بیشتر کا تعلق اپر پنجاب کے اضلاع لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ، قصور، اوکاڑہ، جبکہ چند کا تعلق جنوبی پنجاب کے اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور، وہاڑی، لودھراں اور جھنگ سے ہے۔







