ملتان (وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتا ن میں چوریوں کا شرمناک سلسلہ تھم نہ سکا۔ گزشتہ را ت ایک بار پھر نامعلوم چوروں نے جنریٹر روم کا تالا توڑ کر قیمتی بیٹریاں اور کاپر کی تاریں چوری کر لیں۔ ذرائع کے مطابق یہ چوری رات کے اندھیرے میں ہوئی اور چور آرام سے سامان لاد کر نکل گئے۔یہ کوئی پہلی واردات نہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران زکریا یونیورسٹی کیمپس سے تین بھاری ٹرانسفارمرز، ایک ٹرالی سمیت مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان چوری ہو چکا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یونیورسٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی گارڈز، چیف سیکورٹی آفیسر، سیکورٹی آفیسرز اور ریزیڈنٹ آفیسرز موجود ہیں، جنہیں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے گاڑیاں اور ان لمٹڈ پٹرول کی سہولت بھی دی جا رہی ہے، مگر پھر بھی چوریوں کا یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ذرائع نے بتایا کہ ان مسلسل چوریوں میں کچھ سیکورٹی گارڈز براہِ راست یا بالواسطہ ملوث ہیں۔ بعض ملازمین کا دعویٰ ہے کہ چوروں کو کیمپس کی اندرونی صورتحال اور کمزور مقامات کا مکمل علم ہے، جو بغیر اندرونی مدد کے ممکن نہیں۔ ایک ملازم نے بتایا کہ “رات کو گشت کرنے والی گاڑیاں بھی مخصوص راستوں پر ہی گھومتی ہیں، جبکہ چوریاں بالکل دوسرے علاقوں میں ہو رہی ہیں یونیورسٹی کا قیمتی سامان چوری ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سیکورٹی والوں کو تنخواہیں، گاڑیاں، پٹرول سب مل رہا ہے مگر کام صفر۔”اب تک یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان چوریوں کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، نہ ہی کسی سکیورٹی اہلکار کو معطل کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وی سی آفس کو تمام واقعات کی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں مگر تاحال کوئی ٹھوس ایکشن نہیں لیا گیا۔جب تک “اندرونی ملی بھگت” کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوتیں، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں چوریوں کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔







