ملتان( کورٹ رپورٹر)ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جسٹس محمد طارق ندیم اور جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ثانیہ زہرا قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والےدیور علی حیدر کی سزا معطل کرتے ہوئے اس کی ضمانت منظور کر لی ہے اور اسے پانچ لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے ضیاء الرحمان رندھاوا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ اس کیس میں مقتولہ کی پھندا لگی لاش سسرال میں اپنے کمرہ سے برآمد ہوئی۔ اس مقدمہ میں مقتولہ ثانیہ زہرا کے شوہر علی رضا کو سزائے موت، اس کی ساس عزرا پروین کو بھی عمر قید کی سزا ہوئی تھی جبکہ درخواست گزار مقتولہ کا دیور ہے اور اسے بھی خلاف واقعات و حقائق سزا سنائی گئی ہے جبکہ اس کا مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدعی کے وکلاء میاں رضوان ستار شیخ اور شہریار احسن محبوب نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے کا ہائی پروفائل کیس ہے جسے میڈیا میں کافی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ ایک 20 سالہ حاملہ اور دو معصوم بچوں کی ماں کو قتل کر کے خودکشی کا ڈرامہ رچایا گیا لیکن اس کی باڈی پر ملنے والے تشدد کے نشانات نے اس کیس کو مرڈر کیس میں تبدیل کر دیا۔ اس کیس میں گواہان کے بیانات اور ثبوتوں کی روشنی میں درست سزا سنائی گئی ہے جبکہ ملزم اس رعایت کا حقدار نہیں ہے۔







