بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جنوبی پنجاب میں اربوں کی مبینہ کرپشن، قاسم عرف کاشی مرکزی کردار

ملتان(اشرف سعیدی) میرا نام ملک قاسم ھے نک نام کی بجائے اصل نام لکھا۔ جائے ملک قاسم عرف کاشی نےکہا کہ ایک کروڑ منتھلی ادارے حصہ لیکر بھی کاروائی کریں تو کمال ھے میں ادھر ھوں کوئی پکڑے کاشی کا قوم کو درست نام لکھنے کا میسج بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں کی کرپشن کا انکشاف جنوبی پنجاب سے پاکستانی شنانختی کارڈ رکھنے والے غریب افغانیوں کے امدادی رقم پشاور میں جاکر نکالے جانے کا انکشاف پشاور کا خرچہ اور دفتر کی زمداری پشاور میں وہاں کے ایک پٹھان نے اٹھا رکھی ھے ایک واقفانان حال نے بتایا کہ قاسم عرف کاشی اور آصف نامی شخص نے پشاور میں ہر تین ماہ بعد لوکلی سطح پر جاکر دس سے پندرہ کروڑ کی رقم تقسیم کرنے کا شیڈول طٰہ کر رکھا ھےاور اپنا حصہ سات کروڑ بنتا ھے وصول کیا جاتا ھے روزنامہ قوم میں تفصیلات شائع ھونے کے بعد کاشی نے بتایا کی میں ضلع لودھراں میں موجود ھوں جس نے بھی گرفتار کرنا کر لے اسے گرفتار کرانے کیلیے بہت آئے اور خاموش ھوگئے مگر ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں لائی جاسکی یہ بھی بتایا گیا ھے کہ ایف بی آر کے خوف سے پانچ رجسڑی ڈیواسزز بند کردی گئی تھیں جو اب قاسم عرف کاشی کے گھر۔ میں چل رہی ہیں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں مبینہ طور پر ایک ہزار خواتین سے حلف لیا گیا تھا کہ وہ کسی سے بھی دوہزار کی کٹوتی کا زکر نہیں کریں گی لہٰزا جب بھی بنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط چلے گی سب سے پہلے انہیں ادائیگی کر دی جائے گی اور وعدہ کے مطابق ہر قسط جو بھی چلے سب سے پہلے تقسم کی رقم انہیں دی جاتی ھے اس وقت سترہ ڈیواسزز گھروں کے اندر غیر قانونی طور پر ایسی خواتین چلارہی ہیں جو آدھی رقم وصول کرتی اور تمام رقم قاسم عرف کاشی کودے کر اپنا حصہ وصول کرتی ہیں یہ بھی حیران کن بات ھے کہ ایف آئی اے کی ٹیم کاشف کے نام پر جبکہ یہ ا س کا نک نام ھے جس نام پر علاقے میں کارو بار کرتا نظر آتا آجکل بچوں کے وظیفہ کا سلسلہ شروع ھے جس پر انے والی خواتین سے ایک بچے کا وظیفہ لیا جاتا ھے اس طرح ایک سروے کے مطابق ایک کروڑ روپے کی اکھٹی کی جاتی لوگوں کا یہ بھی کہنا ھے جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ کرپشن تحصیل کروڑ پکا میں ھوتی ھے اور قاسم عرف کاشی کا رابطہ پور جنوبی پنجاب میں ھے اسکا دعویٰ ھے کہ کسی بھی کاروائی کو رکوانے یا پکڑے گئے ڈیوائس رکھنے والے لڑکوں کو قانونی گرفت سے بچانے کا ماہر ھے اس کی بڑی وجہ منتھلی کیلیے رابطے اور مضبوط تعلقات کا ھونا ھے لودھراں میں پکڑے جانے والے تین افراد کی رہائی میں مدد گار ھونے کا بھی دعویدار ھے لوگوں کا کہنا ھے کہ پہلے خود روپوش رہا اور ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دو افراد کو رہائی دلوائی دو کروڑ کی کرپشن کر چکے تھے جبکہ لودھراں میں ابھی تک ایک فرنچائزر قانونی اداروں کی تحویل میں ھے اوربتایا جاتا کہ وہ قاسم عرف کاشی کا بڑا پارٹنر ھے جو قانونی گرفت اچکا ھے مگر ابھی کاشی پر کوئی ھاتھ نہیں ڈالا گیا گزشتہ روز قوم میں شائع ھونے والی خبر پر کاشی نے بتایا کہ جو لکھا وہ درست ھے مگر ناکافی ھے بڑی دیدہ دلیری سے اس کا کہنا تھا کہ پشاور جو چلے گئے اور وہ غریب پٹھان ہیں ان کی مدد کیلیے جاتا ھوں یہ بھی انکشاف ھوا ھے کہ جن افغانیوں کے کارڈ کنسل ھوئے اس سے پیلے ضلع بھر سے تین کروڑ کی رقم نکلواکر ہضم کر گیا جبکہ کسی بھی قانونی ادارے میں اس کے خلاف کوئی حرکت نہیں ھوئی ضلع لودھراں میں قیام پاکستان سے لیکر اب تک مختلف جگہوں پر پشاور بدین اور ڈیرہ اسماعیل خاں سے رہائشی مزدور پٹھان اور زیادہ تر افغانی رہائش پزیر تھے جو اب یہاں سے جاچکے اور ان کے شناختی کارڈ اور جائیدیں بھی موجود ہیں ان کے کارڈوں پر بنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم بمعہ تعلیمی وظائف آرہی ہیں افغانیوں کے جب تک شناختی کارڈ کنسل نہیں ھوئے ان کی انے والی امداد قاسم عرف کاشف باقائدگی سے ڈیواسزز کے عوض دیتے رہے اس وقت پشاور منتقل ھونے والے پٹھان صرف جانے کیلیے مجبور تھے اس وقت انہیں رقم کی بھی اشد ضرورت تھی لہٰزا اس فرنچائزرنے ان کی مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا اور انہیں ھاف رقم کی بنیاد پر پیسے نکلوا کر دیے اس کاریگر نے پیسے کے بل بوتے پر نہ صرف اپنے تعلقات وسیع کیے بلکہ اپنا نیٹ ورک بھی وسیع کر کے کارو بار کو دوام بخشا آج یہ بھی معلوم ھوا ھے کہ کا کی ہر ڈیواسزز پر ایک پیڈ ملازم جو باہر کسی بھی چھاپہ کی صورت میں فوری اطلاع اور وقتی روپوشی کا بندوبست کرنے کی اطلاع دے مسلسل ڈیوٹی پر موجود ھوتا ھے رقم کی کٹوتی نہ کروانی والی خواتین سے بد تمیزی کئی کئی روز کے چکر اور انہیں دن بھر کھڑے رکھ کر اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ دور ہزار کی ادائیگی کریں معمول چلا آرھا ھے موجودہ انتظامیہ خاموش ھے اور کوئی کاروائی کرنے سے گریزاں ھے اگر تحقیقات کی جائیں تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے کے توقع ھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں