بی زیڈ یو سینڈیکیٹ نظر انداز، صرف وی سی کی منظوری سے نیا فلاحی تحقیقی مرکز قائم

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کی جانب سے جاری ایک تازہ نوٹیفکیشن نے یونیورسٹی کے قانونی و انتظامی حلقوں میں ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا وائس چانسلر کو اکیلے اپنی منظوری سے باقاعدہ یونیورسٹی مرکز قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے یا اس کے لیے یونیورسٹی ایکٹ کے تحت متعلقہ بااختیار فورم سے منظوری لازمی ہے؟ دستیاب دستاویزات کے مطابق جنرل برانچ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن نمبر Gen/C-15/6276، مورخہ 13 اگست 2026ء میں وائس چانسلر نے چیئرمین شعبہ انسانی غذائیت کی سفارش اور ڈین فیکلٹی آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن کی توثیق کی بنیاد پر میڈیکل سنٹر میں ’’غذائی کلینک اور فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے شعبہ انسانی غذائیت کے چیئرمین کی سفارش اور ڈین کی توثیق پر میڈیکل سنٹر میں ’’غذائی کلینک اور فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ قائم کرنے کی اجازت دی، جبکہ اس کے تحت کمروں کے مشترکہ استعمال، ہنگامی بنیادوں پر میڈیکل سنٹر کی جانب سے استعمال، صفائی و دیکھ بھال اور آلات کی حفاظت کی ذمہ داری بھی غذائی کلینک پر عائد کی گئی ہے۔ یوں معاملہ محض کسی عارضی انتظامی سرگرمی تک محدود نظر نہیں آتا بلکہ ’’فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ تحقیقی مرکز قائم کرنے کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔قانونی ماہرین اور یونیورسٹی ایکٹ کے ماہرین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا وائس چانسلر کے پاس ازخود ایسا مرکز قائم کرنے کا صریح اختیار موجود ہے؟ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ایکٹ 1975ء کی دفعہ 4 میں یونیورسٹی کے اختیارات بیان کرتے ہوئے شق (p) کے تحت تدریسی شعبہ جات، اسکولز، کالجز، فیکلٹیز، انسٹی ٹیوٹس، مراکزِ امتیاز، علاقائی مطالعاتی مراکز، عجائب گھر اور دیگر مراکزِ تعلیم قائم کرنے کا اختیار ’’یونیورسٹی‘‘ کو دیا گیا ہے۔ اس شق میں مرکز قائم کرنے کا اختیار موجود ضرور ہے، مگر قانون کی زبان میں اختیار ’’یونیورسٹی‘‘ کو دیا گیا ہے، نہ کہ واضح طور پر وائس چانسلر کو ذاتی حیثیت میں۔یہاں سے معاملہ مزید سنگین قانونی سوال اختیار کر لیتا ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 16 کے مطابق وائس چانسلر یونیورسٹی کا پرنسپل ایگزیکٹو اینڈ اکیڈمک آفیسر یعنی مرکزی انتظامی و علمی افسر ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ایکٹ، قوانین، ضوابط اور قواعد کی دفعات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ اگرچہ اسے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہیں، لیکن دفعہ 16 میں ایسا کوئی الگ اور صریح اختیار نظر نہیں آتا جس کے تحت وائس چانسلر اپنی ذات میں ہر قسم کا نیا انسٹی ٹیوٹ، سنٹر یا اکیڈمک ڈویژن یعنی علمی شعبہ قائم کر سکے۔دوسری جانب BZU ایکٹ کی دفعہ 26 انتہائی اہم ہے، جس کے تحت سنڈیکیٹ کو یونیورسٹی کی ایگزیکٹو باڈی یعنی انتظامی ادارہ قرار دیا گیا ہے اور اسے یونیورسٹی کے معاملات اور انتظامی امور پر وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے اگر نیا مرکز مستقل انتظامی یا علمی حیثیت رکھتا ہے تو اس کے قیام کے لیے متعلقہ قانونی اختیار رکھنے والے ادارے کی کارروائی کا سوال پیدا ہونا فطری امر ہے۔مزید برآں ایکٹ کی دفعہ 31(1)(g) میں فیکلٹیز، انسٹی ٹیوٹس، کالجز اور دیگر اکیڈمک ڈویژنز یعنی علمی شعبہ جات کے قیام کو اسٹیچوٹس یعنی قوانین کے ذریعے ریگولیٹ یعنی منظم کرنے کا واضح انتظام موجود ہے، جبکہ دفعہ 31(2) کے مطابق اسٹیچوٹس یعنی قوانین کا مسودہ سنڈیکیٹ کی جانب سے سینیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے، جو اسے منظور، ترمیم، واپس یا مسترد کر سکتی ہے۔ اس قانونی اسکیم سے کم از کم یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے مستقل اکیڈمک یا آرگنائزیشنل یعنی علمی یا انتظامی ڈھانچے میں نئی اکائی قائم کرنا محض ایک معمولی انتظامی اجازت کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔اس پس منظر میں 13 اگست کا مذکورہ نوٹیفکیشن کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر ’’Wellbeing Research Center‘‘ یعنی ’’فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ صرف میڈیکل سنٹر کے اندر ایک محدود آپریشنل یعنی عملی تحقیقی سرگرمی یا کلینک ہے، جسے پہلے سے موجود کسی شعبے کے تحت چلایا جانا ہے، تو اس کی قانونی نوعیت الگ ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے باقاعدہ یونیورسٹی سنٹر کا درجہ دیا گیا ہے، اس کا مستقل آرگنائزیشنل اسٹیٹس یعنی تنظیمی حیثیت بنائی گئی ہے، ڈائریکٹر یا انچارج مقرر کیا جانا ہے، الگ بجٹ یا فنڈز مختص ہونے ہیں، مستقل یا عارضی ملازمین تعینات کیے جانے ہیں، تحقیقی پروگرام چلائے جانے ہیں یا اسے یونیورسٹی کے باقاعدہ اکیڈمک اسٹرکچر یعنی علمی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا ہے تو پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ اس قیام کے لیے سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، سینیٹ یا متعلقہ قانونی ادارے کی کارروائی کہاں ہے؟دستاویز میں کہیں بھی سنڈیکیٹ کی منظوری، اکیڈمک کونسل کی کارروائی، سینیٹ کی منظوری، متعلقہ اسٹیچوٹس یعنی قوانین یا کسی پہلے سے موجود ریگولیشن یعنی ضابطے کا حوالہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برعکس نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق بنیاد صرف چیئرمین شعبہ انسانی غذائیت کی ریکمنڈیشن یعنی سفارش، ڈین کی اینڈورسمنٹ یعنی توثیق اور پھر وائس چانسلر کی اجازت ہے۔ یہی امر قانونی حلقوں کے لیے سب سے بڑا سوال بن گیا ہے کہ کیا محض انتظامی سفارش اور وی سی اپروول یعنی وائس چانسلر کی منظوری سے ایک نئی یونیورسٹی سطح کی اکیڈمک/ریسرچ یعنی علمی و تحقیقی اکائی وجود میں آ سکتی ہے؟دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ BZU ایکٹ کی دفعہ 28 کے مطابق اکیڈمک کونسل یونیورسٹی کا علمی ادارہ ہے، جو انسٹرکشن یعنی تدریس، ریسرچ یعنی تحقیق اور اکیڈمک لائف یعنی علمی زندگی کو ریگولیٹ یعنی منظم اور فروغ دیتی ہے اور یونیورسٹی میں ٹیچنگ اینڈ ریسرچ یعنی تدریس و تحقیق کی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ یعنی منصوبہ بندی اور ترقی سے متعلق تجاویز پر کام کرتی ہے۔ اسی لیے اگر فلاحی تحقیقی مرکز کو حقیقی معنوں میں ایک اکیڈمک/ریسرچ سنٹر یعنی علمی و تحقیقی مرکز بنایا جا رہا ہے تو اس کے اکیڈمک امپلیکیشنز یعنی علمی اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔یوں بظاہر معاملہ صرف چند کمروں کے استعمال کی اجازت کا نہیں بلکہ اختیارِ تشکیل اور یونیورسٹی کے قانونی ڈھانچے کا بن گیا ہے۔ اگر وائس چانسلر نے محض میڈیکل سنٹر میں غذائی کلینک کے لیے جگہ مختص کی ہے تو انتظامی اختیار کے تحت اس کی وضاحت ممکن ہے، لیکن اگر اسی نوٹیفکیشن کے ذریعے ’’Wellbeing Research Center‘‘ یعنی ’’فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ کو ایک مستقل یونیورسٹی سنٹر کے طور پر قائم کیا گیا ہے تو پھر اس اقدام کی قانونی بنیاد، متعلقہ اسٹیچوٹس، سنڈیکیٹ پروسیڈنگز یعنی کارروائی، اکیڈمک کونسل کی سفارش اور دیگر لازمی منظوریوں کا ریکارڈ سامنے آنا ناگزیر ہے۔یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے کہ ایکٹ کی دفعہ 16 وائس چانسلر پر صرف اختیارات نہیں بلکہ یہ ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے کہ ایکٹ، اسٹیچوٹس، ریگولیشنز اور رولز یعنی قوانین، ضوابط اور قواعد پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔ لہٰذا اگر کسی نئے سنٹر کے قیام کے لیے قانون نے کوئی مخصوص طریقہ کار مقرر کر رکھا ہے تو پرنسپل ایگزیکٹو اینڈ اکیڈمک آفیسر یعنی مرکزی انتظامی و علمی افسر ہونے کے ناطے وائس چانسلر سے اس طریقہ کار کی پابندی کی توقع کی جاتی ہے، نہ کہ اس سے انحراف کی۔دستاویزات کی روشنی میں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’Wellbeing Research Center‘‘ یعنی ’’فلاحی تحقیقی مرکز‘‘ کس قانونی ادارے نے قائم کیا؟ اس کی منظوری کس سنڈیکیٹ یا اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں ہوئی؟ کیا سینیٹ نے اسے یونیورسٹی کے اسٹرکچر یعنی ڈھانچے کا حصہ بنانے کی منظوری دی؟ کیا اس مرکز کے لیے باقاعدہ اسٹیچوٹس یا ریگولیشنز یعنی قوانین یا ضوابط موجود ہیں؟ اس کا بجٹ کہاں سے آئے گا، اس کے ملازمین کون ہوں گے، اس کا سربراہ کس اتھارٹی یعنی مجاز ادارے کے ذریعے مقرر ہوگا اور اس کے تحقیقی و انتظامی اختیارات کیا ہوں گے؟اگر ان سوالات کا کوئی قانونی و دستاویزی جواب موجود نہیں تو وائس چانسلر کی جانب سے محض ایک ایڈمنسٹریٹو نوٹیفکیشن یعنی انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے باقاعدہ یونیورسٹی سطح کا ریسرچ سنٹر یعنی تحقیقی مرکز قائم کرنے کا اقدام شدید قانونی اعتراض کی زد میں آ سکتا ہے اور اسے متعلقہ قانونی و انتظامی اداروں کے سامنے جانچنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔مزید برآں BZU ایکٹ میں چانسلر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اگر کسی یونیورسٹی اتھارٹی کی کارروائی ایکٹ، اسٹیچوٹس، ریگولیشنز یا رولز کے مطابق نہ ہو تو وہ اسے کالعدم قرار دے سکتے ہیں، جبکہ چانسلر کو یونیورسٹی کے معاملات سے متعلق انسپیکشن یعنی معائنہ یا انکوائری یعنی تحقیقات کا اختیار بھی حاصل ہے۔ چنانچہ اس متنازع نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے چانسلر یا متعلقہ حکام کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کا راستہ بھی موجود ہے۔نتیجتاً یہ معاملہ محض ایک Nutrition Clinic یعنی غذائی کلینک کے قیام کا نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کا امتحان بن گیا ہے کہ یونیورسٹی ایکٹ میں ’’یونیورسٹی‘‘ کو دیا گیا اختیار کون استعمال کرے گا اور اس اختیار کے استعمال کا قانونی طریقہ کار کیا ہوگا۔ اگر باقاعدہ یونیورسٹی سنٹر قائم کرنے کے لیے متعلقہ قانونی منظوری درکار تھی اور وہ حاصل نہیں کی گئی تو وائس چانسلر کا یہ اقدام اختیارات سے تجاوز اور ایکٹ کے مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کے سوال کو جنم دیتا ہے، جس کی باقاعدہ قانونی و انتظامی تحقیقات ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔

BZU Multan #bzu #bzumultan

شیئر کریں

:مزید خبریں