بہاولپور میں غیرقانونی ہائوسنگ سکیموں کا بڑھتا رجحان سنگین بحران میں تبدیل

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاولپور میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جس سے ہزارو ں شہریوں کی عمر بھر کی کمائی داؤ پر لگ گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں درجنوں نئی اسکیمیں بغیر کسی باضابطہ سرکاری منظوری کے تیزی سے متعارف کرائی جا رہی ہیں، اور ابتدائی رپورٹوں کے مطابق یہ سلسلہ بوگس کاغذات، جعلی نقشوں اور مبینہ سرکاری بے ضابطگیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جعلی منظوریوں اور بوگس رپورٹس کے الزامات،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف محکموں کے بعض ملازمین پر رشوت لے کر ہاؤسنگ اسکیموں کو غیر قانونی طور پر کاغذی کور دینے کا الزام سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر کئی رجسٹریاں بغیر موقع ملاحظہ کیے منظور کی گئیں، جبکہ کچھ اسکیموں کے نقشے بھی سرکاری توثیق کے بغیر عمل میں لائے گئے۔شہری حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کنڈونیشن فیس، اور دیگر متعلقہ دفاتر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔کروڑوں روپے کا کھیل — غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کی یلغارشہریوں کا کہنا ہے کہ شہر اور مضافات میں درجنوں اسکیمیں ایسی ہیں جنہیں نہ ضلعی کونسل نے منظور کیا ہے اور نہ ہی کسی مجاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے۔ کئی نجی ڈویلپرز پر الزام ہے کہ انہوں نے پرکشش اشتہارات، سستے پلاٹوں کے وعدوں اور بلند دعووں کے ذریعے کروڑوں روپے اکٹھے کیے، مگر بعد میں یا تو غائب ہو گئے یا نہ پلاٹ فراہم کیے اور نہ ترقیاتی کام کیے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد اسکیمیں محض کاغذی فائلوں تک محدود ہیں اور زمین پر ان کا کوئی عملی وجود نہیں ملتا۔محکمہ مال کے اہلکار بھی زیرِ سوال؟ابتدائی اطلاعات کے مطابق کچھ پٹواریوں اور متعلقہ عملے پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ان مبینہ غیر قانونی منصوبوں کے کاغذی معاملات میں سہولت کاری فراہم کی۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان یا کارروائی سامنے نہیں آئی، لیکن شہریوں کے مطابق یہ معاملہ اعلیٰ سطحی انکوائری کا متقاضی ہے۔متاثرہ شہریوں کی دہائی: ’’مزید لوگ لٹنے سے پہلے کارروائی کی جائے‘‘درجنوں متاثرہ افراد نے ضلعی انتظامیہ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور متعلقہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو مزید لوگ اربوں روپے کے فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ہاؤسنگ اسکیموں کا ڈیٹا عوام کے لیے آن لائن جاری کیا جائےغیر منظور شدہ منصوبوں کے اشتہارات پر پابندی لگائی جائےجعلی کاغذات میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیںمتاثرہ افراد کے لئے ہیلپ ڈیسک اور ریلیف سیل قائم کیا جائےضلعی انتظامیہ کا موقف؟اس خبر کے فائل ہونے تک ضلعی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم شہری حلقوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ قانونی کارروائی اور تحقیقاتی اقدامات جلد سامنے آئیں گے کیونکہ معاملہ ہزاروں شہریوں کی مالی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں