نشتر انتظامیہ کو ہوش آگیا، 1500 پنکھے چوری پر تھانہ کینٹ درخواست

ملتان (وقائع نگار)نشتر یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ کو ہوش آ گیا۔ 1500 پنکھے چوری کے مقدمے کے لیے پولیس تھانہ کینٹ کو درخواست دے دی گئی۔ نشتر یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث یونیورسٹی سے 1500 پنکھے چوری ہونے کا معاملہ منظر عام پر آیا۔ چالیس لاکھ روپے مالیت کے ان پنکھوں کی چوری کے بعد انتظامیہ کو آخر کار ہوش آیا اور قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے سکیورٹی انچارج مزمل الطاف نے تھانے کینٹ میں درخواست جمع کروا دی ہے جس میں چوری شدہ پنکھوں کا ریکارڈ اور مشتبہ افراد کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ چوری کئی ماہ کے دوران مختلف مراحل میں ہوئی لیکن انتظامیہ کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔یونیورسٹی میں تعینات گارڈز سے بھی ابتدائی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس نے درخواست موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کرنے کے لیے قانونی معاملات شروع کر دیے ہیں۔یہ واقعہ نشتر یونیورسٹی کی انتظامی اور سکیورٹی نظام کی شدید کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے، جس پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں کہ کس طرح اتنی بڑی تعداد میں پنکھے یونیورسٹی سے باہر لے جایے گئے اور سکیورٹی اہلکار کیسے اس چوری سے لاعلم رہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں