ملتان(واثق رؤف)ریلوےمیں حادثات کے بعد درست تحقیقات نہ کئےجانے اور ذمہ داروں کو بچانے کی پالیسی کاتسلسل برقرارملتان ڈویژن کےاسٹیشن خانیوال میں فٹ برج کی سلیب گرنےکے واقعہ میں براہ راست ذمہ دار برج انسپکٹر کو بچانے کا انکشاف ،معمولی نوعیت کی سزا بھی نہ دی گئی اسی طرح انسپکٹر آف ورکس نے شوکاز نوٹس کا جواب دینا گوارا نہیں کیا اور مدت ملازمت مکمل ہونے پر باعزت ریٹائرڈ ہوگئے۔جبکہ ان دو سول انجینئرز کو ملازمت سےبرطرف کردیا گیاہے جن کی براہ راست ذمہ داری نہیں بنتی تھی۔ریلوےقواعدکےتحت انسپکٹر آف برج تمام تر پلوں کی دیکھ بھال ان کی تعمیر و مرمت کے لئے موجود سٹور، ورکشاپ اور سامان کا براہ راست زمہ دار ہوتا ہے روزانہ کی بنیاد پر برج لیبر بھی براہ راست برج انسپکٹر کے تحت ڈیوٹی سر انجام دیتی ہے۔لیکن خانیوال حادثہ میں برج انسپکٹر کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کیاگیا۔اسطرح اسٹیشن ریلوے کی رہائشگاہوں دیگر بلڈنگز کے ذمہ دار انسپکٹر آف ورکس خانیوال کو تحقیقات میں شامل ہی نہیں کیا گیا انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس کا جواب ہی دیناگوارا نہیں کیاحادثہ کے دو ماہ بعد وہ ریٹائرڈ ہوگئے کسی نے انہیں تحقیقات میں شامل ہی نہیں کیا۔انکوائری کوجانتے بوجھتے لیٹ کرکے انسپکٹر آف ورکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد فیکٹ فائنڈنگ اور سزا کے تعین کی رپورٹ جاری کی گئی قواعد کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد آئی او ڈبلیو کے خلاف کسی قسم کی محکمانہ کاروائی نہیں کی جاسکتی دوسری طرف سزا سے استثنیٰ دئیےگئےبرج انسپکٹر کی بابت بتایا جاتا ہےکہ ان کا بھائی موجودہ وفاقی حکومت میں خاصا اثر رسوخ رکھتا ہے جس کی بدولت حادثہ کے چند ہفتوں بعد ہی برج انسپکٹر کو کلین چٹ اور برج انسپکٹر ملتان کے اسی عہدہ پر ڈیوٹی مل گئی تھی جس پر تعیناتی کے دوران برج حادثہ ہوا۔ اب ایک سال بعد برج انسپکٹر کو مکمل کلین چٹ دیتے ہوئے دیگر افسران کو برطرفی کی سزا دے دی گئی ہے۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں آئی او ڈبلیو،برج انسپکٹر کو دی گئی کلین چٹ،اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کی معمولی سزا دیگرکمزور پہلو دونوں افسران کو عدالت سے ریلیف حاصل کرنے کاسبب تو بنیں گے ہی ریلوے کو بھی عدالتی معاملات پر لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑیں گے جبکہ اس سارے عمل میں اصل قصور وار صاف بچ نکلےگادوسری طرف گریڈ18اور17کےایگزیکٹو افسران کی برطرفی کی جانبدرانہ سزا نے پاکستان ریلوے کےسٹاف اور افسران میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ریلوےذرائع کے مطابق اس نوعیت کی جانبدرانہ سزائیں جس میں ذمہ داربچ نکلیں اور دیگر کو قربانی کابکرابنادیاجائےحادثات کی روک تھام میں رکاوٹ ہیں حادثہ کےایک سال کے بعد دو افسروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی جس کو عدالت میں درست ثابت کرنا ممکن نہ ہوسکے گا۔ریلوے ذرائع کے مطابق گزشتہ سال30مئی کو خانیوال ریلوے اسٹیشن پر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک جانے کے لئے بنائے گئے فٹ برج کی سلیب گر گئی تھی حادثہ میں ایک سپیشل ٹکٹ ایگزمینر جاں بحق جبکہ خاتون مسافرزخمی ہوگئی تھی جس کے بعد اسٹیشن سپر نٹنڈنٹ خانیوال،برج انسپکٹر ملتان،اسسٹنٹ ایگزیکٹو آفیسر خانیوال، ڈویژنل ایگزیکٹو انجنیئر ملتان کو معطل کرکے محکمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھاابتداء میں ہی تحقیقات میں انسپکٹر آف ورکس خانیوال جو کہ دو ماہ بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے کو انکوائری میں شامل نہیں کیاگیا جبکہ اسٹیشن سمیت ریلوے کی تمام بلڈنگز کی مرمت دیکھ بھال انکی زمہ داری ہوتی ہے معلوم ہوا ہے کہ ایگزیکٹو آفیسرز کی طرف سےبرج انسپکٹر سمیت انسپکٹر آف ورکس کو بھی متاثرہ برج کواٹینڈ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی وہ ہدایت کو نظر انداز کرنے میں شامل تھے۔انہیں اس امر پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیاگیا تھا تاہم انہوں نے اس کا جواب ہی نہیں دیا اور مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئےدوسری طرف ریلوے قواعد کے تحت برج انسپکٹر حادثہ کا براہ راست ذمہ دار تھا کیونکہ وہ روانہ کی بنیاد پر اپنے سیکشن میں موجود پلوں،فٹ برجز کی دیکھ بھال کا زمہ دار ہوتا ہے جبکہ پلوں کی مرمت دیکھ بھال کے لئے بنائے گئے برج سٹور اس میں موجود سامان کی نگہبانی استعمال بھی برج انسپکٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے اس طرح ایگزیکٹو افسران سمیت ڈویژن سپرنٹنڈنٹ،چیف ،ڈویژنل انجنیئر فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو ماہانہ سہہ ماہی،چھ ماہی سالانہ کارکردگی معائنہ کروانا بھی برج انسپکٹر کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ان تمام تر ذمہ داریوں کو اگر برج انسپکٹر کی طرف سے احسن طریقہ سے ادا کیا جارہا ہوتا تو حادثہ ممکن نہیں تھا۔ریلوے ذرائع کے مطابق حادثہ سے قبل ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئر کی طرف سے بذریعہ واٹس ایپ برج انسپکٹر اور انسپکٹر آف ورکس کو متعدد میسج کئے گئے کہ برج کے متاثرہ حصہ کو مرمت کیا جائے اس کے باوجود برج انسپکٹر نے متاثرہ سلیب کی مرمت اور اس سے محفوظ بنانے کے لئے کوئی جبکہ اسٹیشن سپر نٹنڈنٹ نے بھی صورتحال کا علم ہونے کے باوجود کسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق حادثہ کے فوری بعد برج انسپکٹر،اسٹیشن سپرٹینڈنٹ،اے ای این اور ڈی ای این کو معطل کرکے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا تھا تاہم ریلوے حلقوں میں تحقیقات کی شفافیت پر اس وقت ہی سوالیہ نشان پیدا ہوگئے تھے جب دوران تحقیقات ہی فیلڈ آفیسر برج انسپکٹر کونہ صرف ان کے عہدے پر بحال کردیا گیابلکہ ان کو تبادلہ بھی نہیں کیا گیا اور انکوائری کو التواء کا شکار کرکے آئی او ڈبلیو کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کیاگیا۔برج انسپکٹر سے متعلق علم ہوا ہےکہ ان کا ایک بھائی کا حکمران جماعت کے کلیدی عہدے پر تعینات شخصیت سے براہ راست تعلق ہے۔دوران انکوائری برج انسپکٹر کو کلین چٹ دئیے جانے کےایک سال بعد اب دو سول انجینئرز کو برطرفی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے سزاکوریلوے کے افسران کی جانب سے جانبدرانہ فیصلہ قرار دیا جارہا ہے ریلوے ذرائع کے مطابق برطرف افسران کو تمام تر مراعات کے ساتھ بحال کرنا پڑے گا ماضی میں بھی اس نوعیت کی سیاسی اور اندرونی خلفشار کے تحت کی گئی محکمانہ انکوائریوں میں یہی ہوا ہےزرائع کے مطابق فیلڈ افسران کی زمہ داریاں اور اس پر اٹھنے والے سوالات،سزا سے استثنیٰ عدالت میں سزایافتہ افسران کو ریلیف دینے کے لئے کافی ہے۔ریلوے افسران و سٹاف نے انکوائری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں موجود خامیوں کمزوریوں کی تحقیقات کے لئے غیر جانبدار کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔







