امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ میزائل حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار نظر آ رہی ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تیل بھی 95 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے باعث توانائی کی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن کے اختتام پر مندی دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 831 پوائنٹس کی کمی کے بعد 170,190 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
اسی طرح ایشیا اور یورپ کی بڑی مارکیٹس بھی دباؤ میں رہیں، جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، ہانگ کانگ اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹس میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم جاپان کا نکئی انڈیکس دو فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں، اسٹاک مارکیٹس اور مجموعی معیشت پر مزید شدید ہو سکتے ہیں۔







