اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر جمعرات کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو رات 10 بجے پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا اور حالات کو ڈی چوک جیسی صورتحال میں تبدیل کردیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم اور متعلقہ عہدوں پر موجود افراد پر عائد ہوگی۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جمعرات کو تمام پارلیمنٹرین اڈیالہ جیل جائیں گے، جبکہ اس سے ایک روز قبل تمام پارلیمنٹرین سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہے کہ ملاقات کے دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر خاندان کی اس یقین دہانی کو تسلیم کرلیا جائے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جانی چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ان کا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، اس لیے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق پائی جانے والی تشویش کو دور کیا جانا ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے اور وہ ناحق جیل میں قید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا تو وہ مکمل طور پر صحت مند تھے، جبکہ اڈیالہ جیل میں ان کی صحت کی ذمہ داری حکومت، عدلیہ اور جیل انتظامیہ سمیت پورے نظام پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا نوجوان غصے اور مایوسی کی کیفیت میں ہے اور اسے اپنے مستقبل کے حوالے سے واضح راستہ نظر نہیں آرہا۔ ان کے مطابق بے روزگاری اور موجودہ حالات کے باعث نوجوانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرچکے ہیں اور نوجوان احتجاج کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے تو حالات کو قابو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کو پوری قوم کے باہر آنے کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے بعد کسی کے پاس حالات کو سنبھالنے کا موقع نہیں ہوگا۔







