ہجرت کادرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قربانیوں کی داستان

پاکستان کیلئے گھربارسب کچھ چھوڑدیا:90 سالہ بزرگ کی دردناک کہانی

خان گڑھ (نمائندہ خصوصی) خان گڑھ محلہ شیخاں کے رہائشی 90 سالہ بزرگ حاجی محمد یعقوب شیخ قریشی ولد حاجی کرم الٰہی نے قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کی اپنی دردناک داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع روہتک کی تحصیل گوہانہ کے رہائشی تھے۔ ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کے لئے پانچ افراد پر مشتمل قافلے کی صورت میں سفر اختیار کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہجرت سے قبل ان کے پاس زمینداری، باغات، دکانیں، مکانات اور مویشی سمیت جائیداد اور مال مویشی موجود تھے، مگر پاکستان کی محبت اور آزادی کی امید میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نئے وطن کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں قافلے کو لوٹ لیا گیا اور سفر انتہائی کٹھن اور تکلیف دہ بن گیا۔حاجی محمد یعقوب شیخ قریشی نے بتایا کہ ہجرت کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالات اس قدر دشوار تھے کہ کئی مواقع پر کھانے کو مناسب غذا بھی میسر نہ تھی اور وہ صرف چھولوں پر گزارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے رہے۔ خوف، بھوک، پیاس اور بے یقینی کے باوجود پاکستان پہنچنے کا جذبہ کم نہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم جس آزادی میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کے پیچھے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ بے شمار لوگوں نے اپنے گھر، کاروبار، زمینیں، مال و اسباب اور عزیز و اقارب تک چھوڑ دیے، جبکہ بہت سے خاندان راستے ہی میں بچھڑ گئے۔90 سالہ حاجی محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ نئی نسل کو چاہیے کہ وہ آزادی کی قدر کرے اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ملک بڑی جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ آج جشنِ آزادی مناتے ہوئے ہمیں صرف خوشیاں ہی نہیں منانی چاہئیں بلکہ ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں