صاف پانی کی مشینری بند، عمارتیں دلہن کی طرح سج گئیں، کروڑوں خرچ کے باوجود عوام پیاسے

ملتان ( سپیشل رپورٹر) صاف پانی کی فراہمی کے نام پر کروڑوں روپے کے بجٹ کے استعمال مگر ڈائریکٹراور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پسند کا ٹھیکیدار سارے کنٹیکٹ میٹرون نامی کمپنی کے پاس بل مرضی کے 6 سال سے کارکردگی صفر کروڑوں کے بجٹ کے باوجود عوام کو صاف پانی کی سہولت میسر نہ آ سکی تاہم متعلقہ حکام نے بند اور غیر فعال واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مشینری چلانے کے بجائے ان کی عمارتوں کی تزئین و آرائش پینٹ اور رینوویشن کے ٹھیکے دینے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق 2025ء میں صاف پانی کے منصوبوں کے لیے میگا بجٹ جاری کیا گیا، مگر کوئی بھی واٹر فلٹریشن پلانٹس تاحال فعال نہ ہو سکے۔ گزشتہ ماہ بھی واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی اور رینوویشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، مگر سوال یہ ہے کہ جب پلانٹس کی مشینری ہی ناکارہ یا بند پڑی ہے تو صرف عمارتوں کو خوبصورت بنانے سے عوام کو صاف پانی کیسے ملے گاذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مشینری، نکاسی، رینوویشن، پینٹ اور دیگر ظاہری کاموں کے لیے کنٹریکٹس کیے جا رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ یعنی پلانٹس کو مکمل طور پر فعال کرکے عوام کو صاف اور محفوظ پانی فراہم کرنا بدستور نظرانداز ہے۔مشینری پہلے یا عمارت کا پینٹعوامی حلقوں نے صاف پانی اتھارٹی کی ترجیحات پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فلٹریشن پلانٹ کی مشینری ہی نہیں چل رہی تو نئی پینٹ شدہ عمارت عوام کو کیا دے گی عوام کو صاف پانی چاہیے یا خوبصورت رنگ و روغن والی بند عمارتیںیہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ متعلقہ ادارہ وضاحت کرے کہ 2025ء میں جاری ہونے والے میگا بجٹ سے کتنے فلٹریشن پلانٹس فعال ہوئے، کتنے پلانٹس کی مشینری تبدیل یا مرمت کی گئی اور عوام کو روزانہ کتنے لیٹر صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہےکروڑوں خرچ، نتیجہ صفرعوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود فلٹریشن پلانٹس سے پانی دستیاب نہیں تو یہ محض کاغذی کارروائی اور فنڈز کے استعمال کا معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پہلے مشینری چلائی جائے، پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، معیارِ آب چیک کیا جائے، اس کے بعد عمارت کی تزئین و آرائش کی جائے۔شہریوں نے وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز شریف چیئرمین صاف پانی اتھارٹی چوہدری زاہد اکرم ٰ۔سی ای او صاف پانی اتھارٹی ذوالفقار احمد بھون اور کمشنر ملتان عامر کریم خاں سے مطالبہ کیا ہے کہ صاف پانی اتھارٹی کے جاری اور مکمل شدہ منصوبوں کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے، تمام فلٹریشن پلانٹس کی مشینری کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن جاری ہے اس کی انسکسین کی جائے اور فنکشنل اسٹیٹس کی فزیکل انسپکشن کی جائے، رینوویشن اور پینٹ کے ٹھیکوں کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ عوام کو صاف پانی فراہم کرنے پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور عمارتوں کی تزئین پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے۔عوام کا دوٹوک سوال جب پانی ہی نہیں ملنا تو فلٹریشن پلانٹس کی عمارتوں کو دلہن بنانے کا کیا فائدہ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں