ایمرسن یونیورسٹی، خواتین اساتذہ مبینہ ہراساں، انتقامی کاروائیاں، فپواسا سراپا احتجاج

ملتان ( خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی میں مبینہ انتظامی و مالی بے ضابطگیوں، انتقامی کارروائیوں اور خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے پر فپواسا پنجاب کا اظہارِ تشویش، فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) پنجاب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد بنیامین نے ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں مبینہ انتظامی و مالی بے ضابطگیوں، اساتذہ کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور انتظامیہ کی جانب سے خواتین اساتذہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹی کے مالی و انتظامی معاملات میں شفافیت، میرٹ، قانون اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی و انتظامی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کے بجائے انہیں دباؤ میں لانا، عہدوں سے ہٹانا، ملازمت یا مستقبل کے حوالے سے خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اور بالخصوص خواتین اساتذہ کو مبینہ طور پر ہراساں یا دباؤ کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے ماحول، اساتذہ کے وقار اور تعلیمی آزادی کے لیے نقصان دہ ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر محمد بنیامین نے کہا کہ اگر کوئی استاد یا ملازم مالی یا انتظامی بے ضابطگی کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے دباؤ میں لانے کے بجائے معاملے کی غیر جانب دارانہ انکوائری ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے سربراہ کو کسی معاملے میں فریق بننے کے بجائے غیر جانب دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ادارے میں قانون کی بالادستی اور اعتماد کی فضا برقرار رہے۔انہوں نے اساتذہ کی ایسوسی ایشن بنانے اور اجتماعی نمائندگی کو ان کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حق کو محدود کرنے یا اس حوالے سے دھمکی آمیز نوٹیفکیشن جاری کرنا قابلِ تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے نوٹیفکیشن واپس لیے جائیں، بصورتِ دیگر اس سے یونیورسٹی میں خوف کی فضا پیدا ہوگی اور مثبت تنقید، اجتماعی مشاورت اور اساتذہ کی نمائندگی کا راستہ مزید محدود ہوگا۔فپواسا پنجاب کے صدر نے ایمرسن یونیورسٹی کے اساتذہ پر مبینہ طور پر نافذ کیے گئے کنٹریبیوٹری پنشن نظام اور آئندہ تمام بھرتیوں کو کنٹریکٹ بنیادوں پر منتقل کرنے سے متعلق اقدامات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کا قانون اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق جائزہ لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایمرسن یونیورسٹی ایک سرکاری اور عوامی ادارہ ہے، جو کسی فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں۔ عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت، میرٹ اور جواب دہی لازم ہے اور یونیورسٹی کے مفاد میں کسی بھی مبینہ بے ضابطگی کی نشاندہی کرنا اساتذہ اور ملازمین کا حق ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد بنیامین نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا کہ انتظامی معاملات میں میرٹ، اہلیت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اور تمام معاملات قانون و ضوابط کے مطابق چلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اساتذہ کے جائز حقوق اور تحفظات کا ازالہ نہ کیا گیا تو فپواسا پنجاب معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھانے اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں