اوراک سے مل کر سرائیکی زبان، ادب اور ورژے کو پرموٹ کیا جائیگا: ڈاکٹر روحما حفیظ

ملتان ( خصوصی رپورٹر) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ سرائیکی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر روحما حفیظ نے کہا ہے کہ سرائیکی زبان ،ادب اور ورثے کے فروغ کے لیے شعبہ سرائیکی کا کردار انتہائی اہم ہے، سرائکی خطے کا صاحب ثروت و امیر طبقہ اپنے بچوں کو زبان، ادب اور شاعری سے روشناس کرانے کے لیے سرائیکی زبان کی تعلیم دلوائے تاکہ اچھی شاعری تحریریں اور تالیفات سامنے آسکیں، سرائیکی شعبے کے طلباء ہونہار سکالرشپ سے محروم ہیں حکومت کو چاہیے کہ ان کو بھی ہونہار سکالرشپ میں شامل کیا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ “قوم” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ڈاکٹر روحما حفیظ نے کہا کہ زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سرائیکی میں سٹوڈنٹس کا رجحان بڑھ رہا ہے ہم اورک کے ساتھ مل کر سرائیکی زبان، ادب اور ورثے کو پرموٹ کرنے کے لیے کام کرنے جا رہے ہیں تاکہ طلباء کو ریسرچ کی طرف لایا جائے ،انہوں نے کہا کہ ہم نے سرائیکی ڈیپارٹمنٹ میں آرکیالوجی کو اوپن کیا ہے،خطے کے سرائیکی دانشوروں ،ادیبوں اور تنظیموں کو چاہیے کہ وہ سٹوڈنٹس کو پڑھنے کے لیے سرائیکی ڈیپارٹمنٹ میں بھیجیں انہوں نے کہا کہ کے پی کے اور سندھ میں سرائیکی زبان لازمی ہے وہاں سرائیکی کا بہت اچھا سکوپ ہے ۔انہوں نے کہا کہ زبان ادب اور شعر یہ تینوں چیزیں ہمیشہ بڑے لوگوں کے لیے رہی ہیں عام طبقہ اسے نہیں پڑھتا نہ سیکھتا ہے کیونکہ اس کی اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جو بادشاہ کا بچہ ہوتا ہے وہ بزنس نہیں سیکھتا وہ ہمیشہ تاریخ، لٹریچر اور شاعری اور عمرانیات کو پڑھتا ہے کیونکہ اس نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا ہوتی ہے ،اس لیے میرا پیغام صاحب ثروت اور امیر طبقے کے لیے ہے کہ جن کے بچوں کو نوکری یا روزگار کی فکر نہیں ہے، وہ اپنے بچوں کو کم از کم زبان اور ادب سکھائیں تاکہ اچھی شاعری
تالیفات اور اچھی تحریریں سامنے آسکیں، صاحب ثروت طبقے کو چاہیے کہ وہ سوسائٹی کے بچوں کے ذہن کو روشنی دینے کی ذمہ داری اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس بچے کے والدین کو یہ فکر ہے کہ اس نے گھر کیسے چلانا ہے وہ تو ہنر سیکھے گا وہ ادب نہیں پڑھے گا ، ادب تو وہ پڑھے گا جس کو روزی روٹی کی فکر نہیں ہے، اس لیے امیر اور صاحب ثروت افراد کے بچے آئیں ہمارے پاس تعلیم حاصل کریں اور دانشور، ادیب اور شاعر بنیں ، انہوں نے کہا کہ شبہ سرائیکی میں بی ایس ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے جاری ہیں ہمارے ہاں 12 مضامین پڑھانے کے لیے فیکلٹی کی کمی ضرور ہے لیکن ہم ہر ممکن حد تک بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری پوری کررہے ہیں، دانشور صدیوں میں ایک پیدا ہوتا ہے اس لیے بچے کا ذہن نوکری کا نہیں بلکہ ادب کا بنایا جائے انہوں نے کہا کہ سرائیکی شعبہ میں داخلہ لینے والے بچے وہ ہونہار سکالرشپ سے محروم ہے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سرائیکی زبان و ادب کو پھیلانے اور خطے کے وسیع تر مفاد میں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کو بھی ہونہار سکالرشپ میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے اعتماد میں اضافہ ہو ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں