ملتان(رپورٹ :شاہد راجپوت) ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات 16 ستمبر 2026ء کو منعقد ہونگے جو اس ادارے کی 67 سالہ تاریخ کا محض دوسرا بڑا بیلٹ مقابلہ ہے۔ روایتی طور پر گزشتہ چھ دہائیوں میں قیادت کا چناؤ مشاورت اور سلیکشن کے ذریعے ہوتا رہاتاہم اس مرتبہ جمہوری طرز عمل کو اپناتے ہوئے باقاعدہ پولنگ کرائی جا رہی ہے جسے تاجر برادری خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ تاہم فاؤنڈر گروپ پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ طویل عرصے سے اپنی مرضی کے امیدواروں کو سلیکشن کے ذریعے منتخب کروانے کا حامی رہا ہےجسے مخالفین غیر جمہوری عمل قرار دیتے ہیں۔اس الیکشن میں دو بڑے گروپس فاؤنڈرز گروپ اور فرینڈز گروپ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ فاؤنڈرز گروپ کی قیادت میاں فرید مغیث، میاں راشد اقبال اور ملک اسرار اعوان کر رہے ہیں جبکہ فرینڈز گروپ کے رہنماؤں میں چودھری ذوالفقار انجم، فیصل مختار، ندیم احمدشیخ ،میاں فضل الٰہی، عاصم مجید، شیخ فیصل سعید، ڈاکٹر شفیق پتافی، مجید خان شادی خیل شامل ہیں۔ حال ہی میں فاطمہ گروپ، حور گروپ،شادی خیل گروپ اور سن کراپ گروپ کی فرینڈز گروپ میں شمولیت نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور محمود گروپ کے خواجہ یونس اور حسین ٹیکسٹائل کے میاں حسین احمد فضل کا کردار بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔یہ انتخابی عمل تین مراحل پر مشتمل ہے۔16 ستمبر کو ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے لیے پولنگ ہو گی۔ 19 ستمبر کو خواتین کی مخصوص نشستوںجبکہ 24 ستمبر کو چیمبر کے منتخب ایگزیکٹو ممبرز (صدر، سینئر نائب صدور) کا انتخاب کریں گےجبکہ تمام مراحل کے حتمی نتائج 30 ستمبر کو جاری کیے جائیں گے۔ اس الیکشن میں ایک ہزار کے قریب تاجر و صنعت کار اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے اور 90 فیصد سے زائد ووٹر ٹرن آؤٹ متوقع ہے۔ قانونی محاذ پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشن نے الیکشن کے خلاف دائر کی گئی تمام 17 اپیلیں مسترد کر دی ہیں اور چیمبر سیکرٹری کے اقدامات کو قانون اور متعلقہ قواعد کے عین مطابق قرار دیا ہےجس سے اس جمہوری عمل کو مکمل قانونی اور شفاف حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔







