ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں سابق بھرتیاں منسوخ، رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کی جانب سے وی سی ڈاکٹر حسان خالق سمیت سنڈیکیٹ کو بھی غلط ایجنڈا کے ذریعے گمراہ کئے جانے کا انکشاف تفصیل کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں سابق اشتہارات کے تحت مختلف تدریسی و غیر تدریسی اسامیوں پر بھرتی کا عمل منسوخ کیے جانے کے فیصلے نے شدید تنازع اختیار کر لیا ہے جس پر متاثرہ امیدواروں نے رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حقیقت میں رجسٹرار ڈاکٹر فاروق نے وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی کو منسوخ شدہ سلیکشن بورڈز جس میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان اور ڈاکٹر محمد فاروق رجسٹرار نے مبینہ طور پر رشوت لے کر سلیکشن کی تھی اور اپنے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی بھرتی کیا تھا۔مزکورہ ایجنڈے کو منظور کروانے کے لیے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی پر پریشر ڈالا اور ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، رجسٹرار نے سنڈیکیٹ میں پرانے تمام اشتہارات جو کہ اساتذہ اور انتظامی پوزیشن کے لیے تھے ان کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی اور ان کی جگہ پر کنٹریکٹ کی سیٹوں کا اشتہار جاری کروایا جس کی وجہ سے تمام یونیورسٹی کے اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے۔متاثرہ امیدواروں کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کے سامنے اہم حقائق چھپا کر ارکان کو گمراہ کیا اور محض ”انتظامی وجوہات“ کا مبہم جواز بنا کر سابقہ بھرتی کارروائی کو منسوخ کروایا تاکہ اپنے پسندیدہ افراد کی تقرری کی راہ ہموار کی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی نے 20 جون 2023ء، 15 اگست 2024ء اور 29 اپریل 2025ء کے مختلف اشتہارات کے ذریعے اساتذہ اور انتظامیہ کی آسامیوں کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں، جن پر تمام ضوابط اور فیسوں کی ادائیگی کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کے تحت 19 جولائی 2025ء سے مختلف تحریری امتحانات منعقد کیے گئے۔ تمام امتحانی مراحل مکمل ہونے اور نتائج کی مرتب سازی کے بعد بھرتی کا عمل انٹرویوز کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا کہ سابق وائس چانسلر کے استعفے اور بعد ازاں اپریل 2026ء میں نئے مستقل وائس چانسلر کے چارج سنبھالنے تک یونیورسٹی میں انتظامی تعطل رہا، جس میں امیدواروں کا کوئی قصور نہیں تھا۔امیدواروں کے مطابق آٹھویں سنڈیکیٹ اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 21 کے تحت سنڈیکیٹ ارکان کو یہ بتائے بغیر کہ امتحانات کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں اور نتائج تیار ہیں، اس عمل کو محض ایک ”پرانا اور نامکمل عمل“ ظاہر کر کے منسوخ کرایا گیا۔ اس اقدام سے سینکڑوں امیدواروں کی محنت، جمع کرائی گئی فیسیں اور سفری اخراجات ضائع ہو گئے ہیں اور ان کے لیے عمر کی حد اور دوبارہ فیسوں کی ادائیگی جیسے سنجیدہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ متاثرہ امیدواروں نے گورنر پنجاب و چانسلر ایمرسن یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایجنڈا آئٹم 21 کی منظوری اور حقائق چھپانے کی فوری انکوائری کرائی جائے اور جہاں منسوخی کا کوئی قانونی جواز نہ ہو، وہاں بھرتی کا عمل گزشتہ مکمل شدہ مرحلے (انٹرویوز) سے دوبارہ شروع کر کے ان کا حق بحال کیا جائے۔







