اسلام آباد، واشنگٹن، تہران (بیورو رپورٹ، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان میںپھربڑی بیٹھک ہوگی، امریکا، ایران دوبارہ مذاکرات کیلئے تیار ہوگئے۔ثالثوں نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے کوششوں تیز، رابطے شروع کردیئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہےکہ آئندہ دو دن بہت اہم ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب انسان،بہترین کام کررہے ، پاکستان کا کردار اہم ہے، مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میںپاکستان نےامریکاایران تنازع کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیاہے۔چینی صدر نے اماراتی ولی عہدسےگفتگوکرتےہوئےکہاہےکہ بین الاقوامی قانون کی اتھارٹی کو برقرار رکھا ضروری ، ایسا نہ ہوا تو دنیا واپس جنگل کے قانون کی جانب لوٹ جائیگی۔تفصیل کےمطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یا ان کی ٹیم ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آئندہ 2 روز میں اسلام آباد جاسکتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہونے کا زیادہ امکان ہے اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار ہے جو لائق تحسین ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ 2 دنوں میں اس حوالے سے اہم پیشرفت ہو سکتی ہے اس لیے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے کا امکان زیادہ ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کے لیے اسلام آباد ایک موزوں مقام بن رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی ملک اس معاملے میں براہ راست شامل ہی نہیں تو مذاکرات کسی اور جگہ کیوں کیے جائیں اس لیے اسلام آباد میں بات چیت زیادہ مناسب ہو سکتی ہے۔امریکا اور ایران کے مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔قبل ازیں ایرانی حکام نےکہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جلد اسلام آباد میں ہونے کی خبریں تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ایسے میں ایرانی حکام نےپاکستان کے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، دوسری طرف کا معلوم نہیں۔ایرانی حکام نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور ہو تو پاکستان ہماری ترجیح ہے۔قبل ازیںامریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے اور یہ مذاکرات بھی ممکنہ طور پر پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شریک ہوسکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور پاکستانی نژاد شخصیت ساجد نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ساجد نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں، جہاں اسلام آباد معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم اس حوالے سے نہ تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکام نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی خبر کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ فریقین جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئے براہِ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق اس کے لیے پاکستان نے دوبارہ میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔خبر کے مطابق مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ ایک ثالث ملک کے سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اصولی طور پر اس پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں اسی سطح کے وفود شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم مقام اور وقت کے تعین پر غور جاری ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات جنگ بندی کے اختتام سے قبل آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔علاوہ ازیںامریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ تہران اور واشنگٹن نے رضامندی ظاہر کردی ہے۔نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ ایران پانچ سال کیلئے یورینیم افزودگی معطل کرنے کیلئے تیار ہے لیکن امریکا بیس سال کا مطالبہ کررہا ہے۔ادھرپاکستان نے ایران امریکا تنازع کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، وزارت خارجہ کی جانب سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ہونے والے رابطوں بارے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کے مجوزہ غیر ملکی دوروں کا ایجنڈا طے کیا گیا، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔دوسری جانب چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بہت کمزور ہے۔عرب میڈیا کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام کی سختی سے مخالفت کرے جس سے جنگ بندی کمزور ہو اور تنازع بڑھنے کا خدشہ ہو۔ادھر ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ہماری بندرگاہوں کو خطرہ ہوا تو خطے میں کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے سے خالی ہاتھ واپس جائیں گے، مزاحمتی محاذ پورے خطے میں مضبوط اور مؤثر انداز میں موجود ہے اور دشمنوں کا انتظار کر رہا ہے۔علاوہ ازیںچینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی اتھارٹی کو برقرار رکھا ضروری ہے، ایسا نہ ہوا تو دنیا واپس جنگل کے قانون کی جانب لوٹ جائے گی۔چینی میڈیا کے بیجنگ میں اماراتی ولی عہد سے ملاقات میں شی جن پنگ نے پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عملدرآمد پر زور دیا۔ صدر شی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی کے ڈھانچے کی تعمیرناگزیر ہے۔ خطے میں قومی خودمختاری کے اصول کی پاسداری کی جائے۔ادھرچینی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمزکی امریکی ناکہ بندی کشیدگی میں اضافہ کرے گی، امریکی اقدام خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔بیان کے مطابق چین مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کیلئے کوششیں کرے گا، صرف مکمل جنگ بندی ہی صورتِ حال کو بہتر بنا سکتی ہے۔دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز ایرانی بندرگاہوں سے نہیں گزرا۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس ناکہ بندی میں 10 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، درجنوں جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل ہیں۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کیا اور واپس ایرانی بندرگاہوں کی طرف لوٹ گئے۔ادھرپاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی قائم کرنے کا غیر قانونی، اشتعال انگیز اور غیر تعمیری اقدام ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔‘دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان ایران کے منجمد اثاثوں پر سے پابندی ہٹائے جانے کے بدلے حملے روکنے سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔ادھرایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری ہی اس کی ترجیح ہے۔ یہ بات انھوں نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے گفتگو کے دوران کہی، جس کی رپورٹ ایران کے متعدد خبر رساں اداروں نے دی ہے۔







